
کانگریس رکن پارلیمنٹ منیش تیواری نے پارلیمانی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے چیئرمین بھرتری ہری مہتاب سے منسوب ان خبروں پر اعتراض کیا ہے، جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اپوزیشن کے ’کچھ اراکین‘ نے مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ (ایم ڈی آر) کی تجویز کی حمایت کی تھی۔ منیش تیواری نے کہا ہے کہ یہ دعویٰ نہ صرف غلط بلکہ بے بنیاد اور گمراہ کن ہے۔
منیش تیواری نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری اپنے تفصیلی بیان میں کہا کہ ان کی توجہ پارلیمانی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے چیئرمین بھرتری ہری مہتاب سے منسوب بعض رپورٹس کی جانب دلائی گئی ہے، جن میں کہا گیا ہے کہ اپوزیشن کے ’کچھ اراکین‘ نے ایم ڈی آر کی تجویز کی حمایت کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ’’میں پورے احترام کے ساتھ کہنا چاہتا ہوں کہ یہ بات غلط و بے بنیاد ہے اور مضحکہ خیز بھی ہے۔‘‘
کانگریس رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ 12 مارچ 2026 کو مالی سال 27-2026 کے لیے محکمہ مالی خدمات (ڈی ایف ایس) کے مطالبات زر کا جائزہ لیتے ہوئے اور اس پر رپورٹ پیش کرتے وقت کمیٹی کی سفارش کا بنیادی نکتہ کیا تھا، اسے واضح طور پر سمجھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کمیٹی کی سفارش کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 3 سالہ کثیر سالہ اسکیم اور کیش بیک کے اجزا ٹائر-3 سے ٹائر-6 شہروں میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کو عام کرنے کے لیے ضروری ہیں، لیکن اس کے ساتھ محکمہ مالی خدمات کو ایک خود کفیل اور درجہ وار آمدنی کے ماڈل کے امکانات تلاش کرنے چاہئیں۔
منیش تیواری نے خاص طور سے کمیٹی کی سفارش میں استعمال کیے گئے لفظ ’Explore‘ یعنی ’امکانات تلاش کرنا‘ کو اہم قرار دیا۔ ان کے مطابق کمیٹی نے ایم ڈی آر عائد کرنے کی سفارش نہیں کی تھی، بلکہ محکمہ مالی خدمات سے ایک خود کفیل اور درجہ وار آمدنی کے ماڈل کے امکانات تلاش کرنے کو کہا تھا۔ انہوں نے اس کے بعد حکومت کی جانب سے کمیٹی کی سفارشات پر دیے گئے جواب کا بھی حوالہ دیا۔ ان کے مطابق وزارت خزانہ کے محکمہ مالی خدمات نے 12 اگست 2026 کو لوک سبھا میں پیش کیے گئے جواب میں کہا تھا کہ یو پی آئی کے نظام کو پائیدار بنانے اور سرکاری خزانے پر پڑنے والے بوجھ کو پیش نظر رکھتے ہوئے محکمہ اس وقت 2 امکانات پر غور کر رہا ہے۔
حکومت کے جواب کے مطابق ان میں پہلا امکان بعض زیادہ مالیت والے لین دین یا تاجروں کے لیے ایم ڈی آر بحال کرنے کے امکانات کا جائزہ لینا تھا، جبکہ دوسرا ایک درجہ وار ترغیبی نظام تھا، جس کے ذریعہ آئندہ چند برسوں میں حکومت کی جانب سے دی جانے والی مدد کو مرحلہ وار ختم کیا جا سکے۔ منیش تیواری نے حکومت کے جواب میں استعمال کیے گئے الفاظ ’Currently exploring‘ یعنی ’فی الحال امکانات تلاش کر رہا ہے‘ کو بھی نمایاں کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ الفاظ واضح کرتے ہیں کہ حکومت خود اس وقت ان امکانات کا جائزہ لے رہی تھی۔
کانگریس رکن پارلیمنٹ نے واضح کیا کہ اس کے بعد یو پی آئی یا دیگر ڈیجیٹل ادائیگیوں پر ٹرانزیکشن فیس یا ایم ڈی آر عائد کرنے کی موجودہ تجویز پارلیمانی قائمہ کمیٹی کے سامنے کبھی نہیں آئی۔ انہوں نے کہا کہ اس لیے یہ کہنا کہ اپوزیشن کے ’کچھ اراکین‘ نے اس تجویز کی حمایت کی تھی، صرف اس بنیاد پر کہ انہوں نے اختلافی رائے ظاہر نہیں کی، درست نہیں ہے۔ منیش تیواری نے ایسے دعوے کو پوری طرح سے ’بے بنیاد اور افسوس ناک‘ قرار دیا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔