قومی خبریں

انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ میں چینی روبوٹ کا تنازعہ، راہل گاندھی کا سوال، گلگوٹیا یونیورسٹی کو اسٹال ہٹانے کا حکم

انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ میں چینی کمپنی کے روبوٹ کی نمائش پر تنازعہ کھڑا ہو گیا۔ کانگریس نے حکومت کو نشانہ بنایا، جبکہ گلگوٹیا یونیورسٹی کو اسٹال خالی کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر / اے آئی</p></div>

علامتی تصویر / اے آئی

 

نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں جاری انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 ایک روبوٹک ڈاگ کی نمائش کے سبب تنازعہ کا مرکز بن گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو میں گلگوٹیا یونیورسٹی کے اسٹال پر ایک جدید اے آئی پر مبنی روبوٹک ڈاگ کو پیش کرتے ہوئے دکھایا گیا، جس کے بعد اپوزیشن جماعت کانگریس نے مرکزی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔

Published: undefined

تنازعہ اس وقت شدت اختیار کر گیا جب سوشل میڈیا صارفین نے دعویٰ کیا کہ یہ روبوٹ دراصل چین کی کمپنی یونیٹری کا تیار کردہ ماڈل ہے، جسے یونیٹری گو ٹو کے نام سے جانا جاتا ہے لیکن اسے مختلف نام کے ساتھ پیش کیا گیا۔ بعض پوسٹس میں یہ الزام بھی لگایا گیا کہ غیر ملکی ٹیکنالوجی کو ہندوستان میں تیار شدہ اختراع کے طور پر دکھانے کی کوشش کی گئی۔

Published: undefined

کانگریس نے اس معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح پر ہندوستان کی شبیہ متاثر ہوئی ہے۔ راہل گاندھی نے ایک پوسٹ کو ری پوسٹ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ اے آئی سمٹ کو منظم تکنیکی پلیٹ فارم کے بجائے محض تشہیری سرگرمی بنا دیا گیا ہے اور چینی مصنوعات کی نمائش کی جا رہی ہے۔ کانگریس کی جانب سے جاری بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ حکومت نے اے آئی جیسے اہم شعبے کو سنجیدگی سے لینے کے بجائے اسے مذاق بنا دیا ہے۔

Published: undefined

دوسری جانب مرکزی وزیر اشونی ویشنو کی ایک سوشل میڈیا پوسٹ بھی زیر بحث آئی، جس میں ایک روبوٹ کی کارکردگی کی تعریف کی گئی تھی۔ اس پوسٹ کے نیچے بعض صارفین نے وضاحتی نوٹ شامل کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ متعلقہ روبوٹ چین سے درآمد کیا گیا ہے۔

وائرل ویڈیو اور الزامات کے بعد سرکاری ذرائع کے حوالے سے خبر سامنے آئی کہ گلگوٹیا یونیورسٹی کو فوری طور پر ایکسپو وینیو خالی کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ سمٹ کی وقار اور میک اِن انڈیا کے جذبے کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا۔ اگرچہ اس حوالے سے باضابطہ سرکاری بیان جاری نہیں ہوا، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ نمائش میں شامل دیگر تکنیکی ماڈلز کی بھی جانچ کی جا رہی ہے۔

Published: undefined

گلگوٹیا یونیورسٹی نے وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ روبوٹ انہوں نے تیار کیا ہے۔ یونیورسٹی کے مطابق مذکورہ روبوٹ تعلیمی مقاصد کے لیے خریدا گیا تھا اور اسے طلبہ کو جدید عالمی ٹیکنالوجی سے روشناس کرانے کے لیے بطور لرننگ ٹول استعمال کیا جا رہا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ مقصد یہ تھا کہ طلبہ عالمی معیار کی ٹیکنالوجی کو سمجھ کر مستقبل میں ملک میں اسی نوعیت کی مصنوعات تیار کر سکیں۔

یہ تنازعہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب سمٹ میں دنیا بھر کے پالیسی ساز اور ٹیکنالوجی ماہرین شریک ہیں۔ ایسے میں غیر ملکی ٹیکنالوجی کی نمائش سے متعلق اٹھنے والے سوالات نے منتظمین کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے اور سیاسی بحث کو مزید تیز کر دیا ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined