قومی خبریں

آج پریاگ راج میں ہوگی ’چھاتروں کی گونج‘، ہزاروں نوجوانوں سے ہم کلام ہوں گے راہل گاندھی

راہل گاندھی ہفتے کے روز پریاگ راج میں مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری کرنے والے طلبہ سے براہ راست مکالمہ کریں گے۔ کوٹا اور دہرادون کے بعد اب ’چھاتروں کی گونج‘ پروگرام پریاگ راج میں ہونے جا رہا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی</p></div>

لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی

 

لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی ہفتے کے روز پریاگ راج میں مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری کرنے والے طلبہ سے براہ راست مکالمہ کریں گے۔ راجستھان کے کوٹہ اور اتراکھنڈ کی راجدھانی دہرادون کے بعد اب یہ پروگرام پریاگ راج میں ہونے جا رہا ہے۔ ’چھاتروں کی گونج‘ کے نام سے منعقد ہونے والے اس پروگرام میں پیپر لیک، زیر التوا بھرتیاں، بھرتی امتحانات میں تاخیر، اور بدعنوانی کے ساتھ ساتھ بے روزگاری جیسے مسائل اہم طور پر اٹھائے جائیں گے۔ کانگریس نے اس پروگرام میں نوجوانوں کی بڑی تعداد میں شرکت کا دعویٰ کیا ہے۔

واضح رہے کہ راہل گاندھی شام تقریباً 6:30 بجے کے پی انٹر کالج گراؤنڈ پہنچیں گے اور رات 8:30 بجے تک طلبہ سے مکالمہ کریں گے۔ پروگرام کی خاص بات یہ ہوگی کہ مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری کرنے والے طلبہ کے ساتھ اسٹیج پر راہل گاندھی اکیلے ہوں گے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ اس گفتگو کو سیاسی تقریر کے بجائے نوجوانوں کے مسائل پر مرکوز رکھا جائے گا۔ پروگرام سے پہلے راہل گاندھی سوراج بھون جائیں گے۔ یہاں وہ پارٹی کے اراکین پارلیمنٹ، اراکین اسمبلی، ریاستی انچارج، شریک انچارجوں اور سینئر لیڈران کے ساتھ آئندہ اسمبلی انتخابات کی تیاریوں کے حوالے سے میٹنگ کریں گے۔ اس کے بعد وہ کے پی انٹر کالج کے لیے روانہ ہوں گے۔

کانگریس کے مطابق پروگرام میں شامل ہونے کے لیے تقریباً 2 لاکھ طلبہ نے رجسٹریشن کرایا ہے، جبکہ پارٹی نے ایک لاکھ سے زائد نوجوانوں کی موجودگی کا ہدف رکھا ہے۔ پروگرام کے حوالے سے کانگریس نے پریاگ راج اور آس پاس کے اضلاع میں وسیع تیاریاں کی ہیں۔ صوبائی کانگریس صدر اجے رائے نے ’نکڑ سبھاؤں‘ کے ذریعے طلبہ کو پروگرام میں شامل ہونے کی دعوت دی۔ پریاگ راج کو اس پروگرام کے لیے منتخب کرنے کی وجہ بھی نوجوانوں کی بڑی آبادی ہے۔ شہر کے مختلف رہائشی علاقوں اور ہاسٹلز میں تقریباً 2 لاکھ مقابلہ جاتی امتحانات کے طلبہ رہ کر سرکاری نوکریوں کی تیاری کرتے ہیں۔ ان میں بڑی تعداد پوروانچل کے نوجوانوں کی ہے۔ الٰہ آباد یونیورسٹی کے علاوہ ایم این این آئی ٹی اور آئی آئی آئی ٹی جیسے اداروں کی وجہ سے بھی پریاگ راج طویل عرصے سے نوجوانوں اور طلبہ کی سیاست کا ایک بڑا مرکز رہا ہے۔

’چھاتروں کی گونج‘ پروگرام کا آغاز میوزیکل پرفارمنس سے ہوگا۔ نوجوانوں کی پسند کو مدنظر رکھتے ہوئے پاپ سنگر لشکری اور ایم سی الطاف کو پرفارمنس کے لیے بلایا گیا ہے۔ کانگریس کے مطابق پروگرام میں روایتی سیاسی تقریر کے بجائے طلبہ سے براہ راست مکالمے پر زور رہے گا۔ راجستھان اور اتراکھنڈ میں پروگراموں کے بعد، کانگریس نے پریاگ راج کو ’چھاتروں کی گونج‘ کے اگلے پڑاؤ کے طور پر منتخب کیا ہے۔ پارٹی اسے پوروانچل کے نوجوانوں تک رسائی حاصل کرنے اور اتر پردیش میں آئندہ اسمبلی انتخابات کی تیاریوں کے لحاظ سے ایک اہم پروگرام کے طور پر دیکھ رہی ہے۔

راہل گاندھی کے مجوزہ پروگرام ’چھاتروں کی گونج‘ کے حوالے سے پریاگ راج میں کئی دنوں سے جاری بے یقینی 7 اگست کو ختم ہو گئی۔ کایستھ پاٹھ شالا (کے پی) ٹرسٹ نے پہلے دی گئی اجازت واپس لینے کے بعد اپنا فیصلہ بدلتے ہوئے کے پی انٹر کالج گراؤنڈ میں پروگرام منعقد کرنے کی اجازت دے دی۔ اس سے پہلے ٹرسٹ کی جانب سے اجازت منسوخ کیے جانے کے بعد کانگریس کے ریاستی صدر اجے رائے اور رکن پارلیمنٹ اجول رمن سنگھ نے ڈی ایم منیش کمار ورما سے ملاقات کی۔ میٹنگ میں ایڈیشنل پولیس کمشنر (امن و امان) ڈاکٹر اجے پال شرما بھی موجود تھے۔ کانگریس لیڈران نے واضح کیا کہ 8 اگست کو مجوزہ پروگرام کو ملتوی کرنا ممکن نہیں ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے کہا گیا کہ پروگرام پر کوئی اعتراض نہیں ہے اور اگر ٹرسٹ اجازت دیتا ہے تو سیکورٹی اور دیگر انتظامات میں پورا تعاون کیا جائے گا۔

دوسری جانب پروگرام کی اجازت ملنے کے بعد راہل گاندھی نے پریاگ راج میں منعقد ہونے والے ’چھاتروں کی گونج‘ پروگرام سے قبل ایک ویڈیو پیغام جاری کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حکومت جھکتی ہے بس آواز ایک ساتھ اٹھنی چاہیے۔ ہفتے کے روز پریاگ راج میں یہی بات کرنے آ رہا ہوں۔ راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’پریاگ راج آ رہا ہوں۔ ملک کے اس شہر میں جہاں سب سے زیادہ نوجوان تیاری کرتے ہیں۔ ایک بات صاف ہے، یہاں کا ہر طالب علم جانتا ہے کہ سسٹم بے ایمان ہو چکا ہے۔ آپ کی محنت میں کوئی کمی نہیں، بلکہ کمی اس سسٹم کی نیت میں ہے، جو آپ کی محنت کا صلہ نہیں دیتی۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔