قومی خبریں

چھاتروں کی گونج: صفت فیض نے راہل گاندھی کو سنائی پٹنہ میں طلبا پر ہوئی پولیس بربریت کی داستان

ایک نوجوان نے کہا کہ الٰہ آباد یونیورسٹی میں مسائل کا انبار ہے۔ یونیورسٹی میں فیس 400 فیصد بڑھا دی گئی ہے، ہاسٹل فیس میں بھی اضافہ کر دیا گیا ہے، لائبریری صرف 8 گھنٹے کھولی جاتی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>راہل گاندھی کے سامنے اپنے مسائل رکھتے ہوئے طلبا، درمیان میں کھڑی صفت فیض، تصویر ’ایکس‘ @INCIndia</p></div>

راہل گاندھی کے سامنے اپنے مسائل رکھتے ہوئے طلبا، درمیان میں کھڑی صفت فیض، تصویر ’ایکس‘ @INCIndia

 

’’نریندر مودی جی، آپ کسی غلط فہمی میں مت رہیے۔ ہم بہاری ہیں اور مجاہد آزادی کے کنبہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ کتنی لمبی جیل تمھاری، دیکھ لیا ہے، دیکیھیں گے۔‘‘ یہ بیان آج پریاگ راج واقع کے پی گراؤنڈ میں منعقد ’چھاتروں کی گونج‘ پروگرام کے دوران پٹنہ یونیورسٹی کے ایک طالب علم نے راہل گاندھی کی موجودگی میں ہزاروں طلبا و نوجوانوں کے سامنے انتہائی جوشیلے انداز میں دیا۔ بہار کے اس نوجوان نے مودی حکومت کو نہ صرف اوپن چیلنج پیش کیا، بلکہ پٹنہ میں طلبا پر ہوئی پولیس بربریت کا ذکر بھی کیا۔ اس نے بتایا کہ پولیس والوں نے زخمی طلبا کو اسپتال لے جانے کے لیے ایمبولنس تک نہیں آنے دیا، حتیٰ کہ خود اسے زخمی حالت میں ’تھری ایڈیٹ‘ فلم کی طرح اسکوٹی پر اسپتال لے جایا گیا۔

پٹنہ میں ہوئی پولیس بربریت کی تفصیل راہل گاندھی کے سامنے صفت فیض نامی طالبہ نے بہت بے باکی کے ساتھ رکھی۔ پٹنہ یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کی پہلی خاتون نائب صدر صفت نے بتایا کہ ’’دہلی میں 20 جولائی کو طلبا اور نوجوانوں پر ہوئی بربریت کے خلاف 22 جولائی کو بڑی تعداد میں طلبا پٹنہ میں پرامن مظاہرہ کرنے والے تھے۔ لیکن بہار حکومت اور بہار پولیس نے ان کے ساتھ ظالمانہ رویہ اختیار کیا۔ طلبا کو مارا پیٹا گیا اور انھیں راتوں رات غیر قانونی طریقے سے حراست میں لے لیا۔ بہار میں یہ سلسلہ کئی دنوں تک چلا۔‘‘ وہ مزید بتاتی ہیں کہ ’’سیوان میں بھی ظلم ہوا جہاں مظاہرہ کرنے والے طلبا اور نوجوانوں پر اے کے-47 سے فائرنگ کر دی جاتی ہے۔ اس فائرنگ میں طالب علم سنگین طور پر زخمی بھی ہوئے۔‘‘

صفت فیض نے موجودہ تعلیمی نظام کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ آج طلبا کی حالت ایسی ہے کہ پہلے وہ پڑھائی کریں، لیکن جب پیپر لیک ہو جائے اور حق کے لیے مظاہرہ کریں تو ان پر لاٹھی چارج کیا جاتا ہے۔ وہ اس بات پر افسوس ظاہر کرتی ہیں کہ ملک کے نوجوان اسی ’چکرویوہ‘ میں پھنسے رہتے ہیں۔ صفت فیض نے بہار میں بچیوں کی اس جنگ کا بھی ذکر کیا، جو تعلیم حاصل کرنے کے لیے انھیں کرنی پڑتی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ پہلے تو تعلیم حاصل کرنے کے لیے ایک لڑکی کو گھر والوں سے لڑائی لڑنی ہوتی ہے۔ کسی طرح وہ لڑ کر گھر سے نکلتی ہے، اور پھر باہر کی لڑائی شروع ہوتی ہے۔ بہار حکومت ویکنسی نہیں نکالتی ہے، اس کے لیے بھی سڑک پر نکل کر مظاہرہ کرتی ہے۔ جب ویکنسی نکلتی ہے تو پیپر لیک ہو جاتا ہے، لڑکیوں کو اس کے لیے بھی مظاہرہ کرنا پڑتا ہے۔ پھر پولیس لڑکیوں کو پیٹتی ہے، حراست میں لیتی ہے، گرفتار کر لیتی ہے۔ گویا کہ ہر محاذ پر لڑکیوں کو جنگ لڑنی ہوتی ہے۔

اتر پردیش کے ایک طالب علم اویناش نے ریاست میں ٹیچر کی تقرریاں نہ نکلنے پر اپنے شدید رنج و غم کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’یوپی حکومت کے پاس عہدے ہیں، لیکن وہ بھرتی ہی نہیں نکال رہی ہے۔‘‘ وہ کہتے ہیں کہ 2018 میں انھوں نے ٹیچر کی تیاری شروع کی تھی، اور اب بھی اسی کی تیاری کر رہے ہیں۔ انھوں نے موجودہ نظام پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم نے کئی بار دھرنا دیا، لاٹھیاں کھائیں اور کئی افسروں کو عرضی دی، لیکن ہماری کوئی سماعت نہیں ہوئی۔‘‘

اویناش نے بتایا کہ اتر پردیش میں کئی ساری بھرتیاں ایسی ہیں، جو لٹکی ہوئی ہیں۔ کوئی بھرتی نکالی بھی گئی، اور پیپر لیک ہو گیا تو ہم طالب علم کسی سے اپنی تکلیف تک بیان نہیں کر پاتے ہیں۔ اویناش کہتے ہیں کہ ’’ہمارا مطالبہ ہے حکومت وقت پر بھرتیاں نکالے، امتحان کیلنڈر فکس کرے تاکہ نوجوانوں کا وقت اور پیسہ برباد نہ ہو۔‘‘

بہار کے طالب علم ہمانشو کمار نے اپنی غربت کے باوجود بڑی مشکل سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا ذکر کیا اور بتایا کہ سالوں گزر جانے کے بعد بھی امتحان کا انتظار ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’میری ماں نے زمین فروخت کر کے مجھے بی ایڈ کرایا، لیکن گزشتہ 4 سالوں سے کوئی ویکنسی نہیں آئی ہے۔‘‘ انھوں نے بتایا کہ ’’میں پٹنہ میں رہ کر پڑھائی کرتا ہوں۔ ہر مہینے 12-10 ہزار روپے کا خرچ آتا ہے۔ آخر میری ممی کہاں سے اتنے پیسے دے گی؟‘‘ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’آج بی ایڈ، پی جی اور سی ٹیٹ کوالیفائیڈ ہونے کے بعد بھی مجھے 20 ہزار روپے کی ملازمت نہیں ملے گی۔ اوپر سے جب ہم تحریک کرتے ہیں تو پولیس ہمیں لاٹھی سے مارتی ہے، حراست میں لے لیتی ہے۔‘‘

الٰہ آباد یونیورسٹی میں زیر تعلیم ایک طالب علم نے کچھ ایسے مسائل سامنے رکھے، جو انتہائی تشویشناک ہیں۔ انھوں نے راہل گاندھی کو بتایا کہ ’’الٰہ آباد یونیورسٹی میں مسائل کا انبار ہے۔ یونیورسٹی میں فیس 400 فیصد بڑھا دی گئی ہے، یونیورسٹی میں ہاسٹل کی فیس میں بھی اضافہ کر دیا گیا ہے، لائبریری صرف 8 گھنٹے کھولی جاتی ہے، جہاں پانی بھر جاتا ہے۔‘‘ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’24 گھنٹے لائبریری کھولنے کا مطالبہ کرنے پر یونیورسٹی انتظامیہ کہتی ہے– زیادہ پڑھ کر کیا کلکٹر بنو گے؟‘‘ انھوں نے انتظامیہ کے رویہ کو انتہائی افسوسناک ٹھہراتے ہوئے کہا کہ طلبا نے جب گندے پانی کی شکایت کی تو انتظامیہ کہتی ہے– یونیورسٹی پانی پینے کی جگہ نہیں ہے۔ طالب علم یہ بھی کہنے سے گریز نہیں کرتا کہ آج اس پلیٹ فارم پر بولنے کی اسے سزا ملنی طے ہے، کیونکہ یونیورسٹی انتظامیہ ایف آئی آر کرے گی۔

الٰہ آباد یونیورسٹی کے ہی ایک دیگر طالب علم کنال کمار پانڈے نے بھی طلبا کی پریشانی ہزاروں طلبا کے سامنے رکھی۔ انھوں نے کہا کہ ’’الٰہ آباد یونیورسٹی میں 50 فیصد سیٹوں کی تخفیف کی گئی ہے اور فیس میں اچانک سے 400 فیصد کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ جب طالب علم اس کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں، تو انھیں معطل کر دیا جاتا ہے، یا پھر ایف آئی آر درج کی جاتی ہے۔‘‘ حالانکہ انھوں نے سبھی کے سامنے یہ عزم کیا کہ ان کا جو حق ہے، وہ ہر حال میں لے کر رہیں گے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔