قومی خبریں

سابق وزیر اعلیٰ چنی کا مان حکومت پر مائننگ مافیا چلانے کا الزام، پنجاب بھر میں سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ

چرن جیت سنگھ چنی نے مان حکومت پر پنجاب میں غیر قانونی کان کنی اور مافیا کی سرپرستی کا الزام لگایا ہے۔ انہوں نے سی بی آئی سے ہوشیارپور کے ساتھ پورے پنجاب میں تحقیقات کا مطالبہ کیا

<div class="paragraphs"><p>سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چرنجیت سنگھ چنی / آئی اے این ایس</p></div>

سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چرنجیت سنگھ چنی / آئی اے این ایس

 

چنڈی گڑھ: پنجاب کے سابق وزیرِ اعلیٰ اور کانگریس رہنما چرن جیت سنگھ چنی نے عام آدمی پارٹی کی حکومت پر ریاست میں بڑے پیمانے پر غیر قانونی کان کنی، بدعنوانی اور مافیا کی سرپرستی کے الزامات عائد کیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دریاؤں اور کانوں سے ریت اور پتھر چوری کیے جا رہے ہیں، جبکہ اس کاروبار سے حکومت سے وابستہ افراد کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔ چنی نے ہوشیارپور میں غیر قانونی کان کنی کی تحقیقات کرنے والی مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) سے کارروائی کا دائرہ پورے پنجاب تک پھیلانے کا مطالبہ کیا ہے۔

چنی نے بتایا کہ انہوں نے گزشتہ رات ایک مہم کے دوران دریا اور کان کنی سے متعلق علاقوں کا دورہ کیا اور صورتِ حال کا جائزہ لیا۔ ان کے مطابق پنجاب سے روزانہ ہزاروں ٹرک ریت اور پتھر لے کر نکلتے ہیں اور اس عمل میں بڑے پیمانے پر چوری ہوتی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ عام آدمی پارٹی کے رہنما اروند کیجریوال، پارٹی سے وابستہ افراد اور وزیرِ اعلیٰ بھگونت مان مل کر مبینہ مائننگ مافیا چلا رہے ہیں۔

سابق وزیرِ اعلیٰ کا کہنا تھا کہ ریاست میں قانونی کانوں کی تعداد کم ہے اور کئی کانیں بند پڑی ہیں، مگر غیر قانونی کان کنی کے ذریعے رقم کمائی جا رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ ایک کان اور دریا کے علاقے میں گئے اور وہاں جاری سرگرمیوں کی جھلک دکھائی۔ چنی نے کہا کہ یہ مسئلہ کسی ایک مقام تک محدود نہیں؛ ان کے بقول پنجاب کے مختلف حصوں میں غیر قانونی کان کنی جاری ہے۔

ریت اور بجری کی قیمتوں کا ذکر کرتے ہوئے چنی نے کہا کہ پہلے ریت 5.50 روپے میں دستیاب تھی، جو اب 36 روپے تک پہنچ گئی ہے۔ اسی طرح ان کے مطابق پہلے 5.50 روپے میں ملنے والی بجری اب 32 روپے فی فٹ فروخت ہو رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ریت اور پتھر کی وری سے ہر رات سیکڑوں کروڑ روپے اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔

چنی نے کہا کہ ہائی کورٹ نے ہوشیارپور میں غیر قانونی کان کنی کے ایک معاملے کی تحقیقات سی بی آئی کے سپرد کی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تحقیقات صرف ہوشیارپور تک محدود نہ رہیں بلکہ جہاں بھی پنجاب میں غیر قانونی کان کنی کی شکایات ہیں، وہاں بھی جانچ کی جائے۔ ان کا الزام ہے کہ حکومتی ملی بھگت کے بغیر مافیا یہ سرگرمیاں جاری نہیں رکھ سکتا۔ انہوں نے تفتیشی ادارے سے کہا کہ غیر قانونی کان کنی میں شامل تمام افراد کی شناخت ک رکے ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔