
آئی اے این ایس
نئی دہلی: مرکزی حکومت نے ایک طرف دعویٰ کیا ہے کہ پٹرول میں 20 فیصد ایتھنول ملاوٹ (ای-20) کی پالیسی نے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے دوران ایندھن کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے میں اہم کردار ادا کیا، جبکہ دوسری جانب مرکزی وزیر برائے سڑک ٹرانسپورٹ و شاہراہ نتن گڈکری نے پہلی بار تسلیم کیا ہے کہ اس ایندھن کے استعمال سے بعض پرانی گاڑیوں میں ربڑ کے کچھ پرزے تبدیل کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
پیٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت کے مطابق، اگر پٹرول میں ایتھنول کی ملاوٹ نہ ہوتی تو خام تیل کی بلند قیمتوں کے باعث دہلی میں پٹرول تقریباً 125 روپے فی لیٹر تک پہنچ سکتا تھا، جبکہ صارفین نے 94.77 روپے فی لیٹر کی قیمت ادا کی کیونکہ پٹرول میں 20 فیصد ایتھنول شامل تھا، جسے پہلے سے طے شدہ قیمتوں پر خریدا گیا تھا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس پالیسی سے درآمدی خام تیل پر انحصار کم ہوا، زرمبادلہ کی بچت ہوئی، کاربن کے اخراج میں کمی آئی اور کسانوں کو بھی فائدہ پہنچا۔
تاہم راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں مرکزی وزیر نتن گڈکری نے کہا کہ بی ایس-3 معیار کی بعض پرانی گاڑیوں، جو تقریباً 2005 سے 2016 کے درمیان تیار ہوئیں، میں ای-20 پٹرول کے استعمال سے ربڑ کے کچھ پرزے، جیسے او-رِنگ، ربڑ سیل، فیول ہوز، گیسکیٹ اور فیول پمپ کے ربڑ کمپوننٹس وقت کے ساتھ متاثر ہو سکتے ہیں اور انہیں معمول کی سروسنگ کے دوران تبدیل کرنا پڑ سکتا ہے۔
گڈکری نے واضح کیا کہ مختلف مطالعات میں ای-20 سے گاڑیوں کی مجموعی کارکردگی یا پائیداری پر کوئی بڑا منفی اثر سامنے نہیں آیا اور نہ ہی ان گاڑیوں کے انجن میں کسی تبدیلی کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق، گاڑی کی مائلیج صرف ایندھن پر منحصر نہیں ہوتی بلکہ ڈرائیونگ کا انداز، سڑکوں کی حالت، دیکھ بھال اور دیگر عوامل بھی اس پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
حکومت نے یہ بھی کہا کہ ایتھنول کی تیاری کے لیے عوامی تقسیم کے نظام یا قومی غذائی تحفظ کے تحت مختص اناج استعمال نہیں کیا جاتا، بلکہ صرف اضافی یا انسانی استعمال کے قابل نہ رہنے والا اناج استعمال کیا جاتا ہے۔
دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں اور بعض ماہرین نے حکومت کے اس دعوے پر سوال اٹھایا ہے کہ ایتھنول ملاوٹ ہی پٹرول کی قیمت کم رکھنے کی واحد وجہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پٹرول کی خوردہ قیمت پر مرکزی و ریاستی ٹیکس، خام تیل کی عالمی قیمت، ریفائننگ اور نقل و حمل کی لاگت بھی نمایاں اثر ڈالتی ہے۔ ناقدین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر ای-20 سے پرانی گاڑیوں میں اضافی دیکھ بھال یا پرزوں کی تبدیلی کی ضرورت پیش آتی ہے تو اس کی لاگت بھی صارفین کو برداشت کرنا ہوگی۔
حکومت کا موقف ہے کہ ای-20 پروگرام طویل مدت میں توانائی کے شعبے میں خود انحصاری، درآمدی تیل پر انحصار میں کمی اور ماحول کے تحفظ کے لیے ایک اہم قدم ہے، جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پالیسی کے فوائد کے ساتھ اس کے ممکنہ اثرات سے متعلق صارفین کو بھی مکمل طور پر آگاہ کیا جانا چاہیے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔