قومی خبریں

سہ لسانی پالیسی پر سی بی ایس ای کا بڑا فیصلہ، تیسری زبان میں نہیں دینا ہوگا بورڈ امتحان

اگر کوئی طالب علم پہلے سے ہندی اور تمل جیسی 2 ہندوستانی زبانیں پڑھ رہا ہے تو وہ تیسری زبان کے طور پر ایک اور ہندوستانی زبان یا انگریزی، فرانسیسی جیسی غیر ملکی زبانیں منتخب کر سکتا ہے۔

سی بی ایس ای، تصویر آئی اے این ایس
سی بی ایس ای، تصویر آئی اے این ایس 

سی بی ایس ای کے سہ لسانی فارمولے کو لے کر طلبہ اور ان کے والدین کے ذہن میں کئی طرح کے سوال تھے، جنہیں اب سی بی ایس ای نے دور کر دیا ہے۔ بورڈ کی طرف سے کہا گیا ہے کہ 7ویں، 8ویں، 9ویں اور موجودہ 10ویں جماعت کے طلبہ کے لیے فی الحال کوئی بڑی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔ بورڈ نے نئی لسانی پالیسی کے سلسلے میں تفصیلی گائیڈلائنز جاری کر دی ہیں۔

Published: undefined

سی بی ایس ای بورڈ کی جانب سے جاری گائیڈلائنز کے مطابق موجودہ 10ویں جماعت کے طلبہ پر بھی نئی لسانی پالیسی نافذ نہیں ہوگی۔ رواں سال بورڈ امتحان دینے والے طلبہ کو کسی طرح کی تبدیلی یا اضافی مضمون کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ سی بی ایس ای نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ 7ویں، 8ویں اور 9ویں جماعت کے وہ طلبہ جنہوں نے پہلے سے 2 غیر ملی زبان منتخب کر رکھی ہیں، وہ انہیں جاری رکھ سکیں گے۔ حالانکہ انہیں اس کے ساتھ ایک ہندوستانی زبان بھی پڑھنی ہوگی۔

Published: undefined

سی بی ایس ای کا کہنا ہے کہ نئی لسانی پالیسی کو مرحلہ وار طریقے سے نافذ کیا جائے گا۔ اس سے طلبہ کی تعلیم پر اچانک کوئی اثر نہ پڑے۔ اس کے لیے کلاس کے معیار کے مطابق ضروری درسی مواد بھی طے شدہ وقت کے اندر فراہم کر دیا جائے گا۔ کلاس 10 (27-2026 سیشن) کے لیے کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔ طلبہ پہلے کی طرح صرف 2 زبانیں ہی پڑھیں گے۔ انہیں تیسری زبان لینے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ کلاس 9 (27-2026 سیشن) کے طلبہ کو 3 زبانیں پڑھنی ہوں گی، جن میں سے کم از کم 2 ہندوستانی زبانیں ہونا ضروری ہیں۔

Published: undefined

اگر کوئی طالب علم پہلے سے ہندی اور تمل جیسی 2 ہندوستانی زبانیں پڑھ رہا ہے تو وہ تیسری زبان کے طور پر ایک اور ہندوستانی زبان یا انگریزی، فرانسیسی جیسی غیر ملکی زبانیں منتخب کر سکتا ہے۔ اگر کوئی طالب علم تمل اور انگریزی پڑھ رہا ہے تو اسے تیسری زبان کے طور پر ایک ہندوستانی زبان شامل کرنی ہوگی۔ اگر کوئی طالب علم انگریزی اور فرانسیسی جیسی 2 غیر ملکی زبانیں پڑھ رہا ہے تو اسے ایک بار کے لیے خصوصی چھوٹ دی گئی ہے کہ وہ اپنی دونوں غیر ملکی زبانوں کو جاری رکھ سکتا ہے، لیکن اس کے ساتھ ایک ہندوستانی زبان بھی پڑھنی ہوگی۔

Published: undefined

واضح رہے کہ موجودہ وقت میں 9ویں جماعت کے طلبہ کو تیسری زبان میں سی بی ایس ای بورڈ کا امتحان نہیں دینا ہوگا۔ اس زبان کا جائزہ صرف اسکول کی سطح پر لیا جائے گا۔ کلاس 7 اور 8 (27-2026 سیشن) کے طلبہ جب 9ویں اور 10ویں جماعت میں پہنچیں گے تب بھی 3 زبانیں پڑھیں گے۔ اگر انہوں نے پہلے سے 2 غیرملکی زبانیں منتخب کر رکھی ہیں تو انہیں صرف ایک ہندوستانی زبان شامل کرنی ہوگی۔ ان طلبہ کو بھی تیسری زبان کا سی بی ایس بورڈ امتحان نہیں دینا ہوگا۔ اس کا جائزہ صرف اسکول سطح پر کیا جائے گا۔ کلاس 6 (27-2026 سیشن) اور اس کے بعد کے طلبہ پر نئی پالیسی مکمل طور پر نافذ ہوگی۔ 3 زبانوں میں 2 ہندوستانی زبانیں لازمی ہوں گی۔ جب یہ طلبہ 10ویں جماعت میں پہنچیں گے تب تیسری زبان کا بورڈ امتحان بھی دیں گے۔ این سی ای آر ٹی 22 شیڈول ہندوستانی زبانوں میں نئی کتابیں دستیاب کرا رہا ہے۔

Published: undefined

سی بی ایس نے کچھ زمروں کے طلبہ کو اس اصول سے باہر رکھا ہے۔ معذور (سی ڈبلیو ایس این) طلبہ کو قانون کے مطابق راحت ملے گی۔ ہندوستان سے بارہ موجود سی بی ایس ای اسکولوں کے طلبہ کے لیے ہندوستانی زبان پڑھان لازمی نہیں ہوگا۔ بیرون ملک سے ہندوستان لوٹنے والے غیر ملکی طلبہ کو بھی تیسری ہندوستانی زبان سے چھورٹ ملے گی۔

Published: undefined

اگر کسی طالب علم کے والدین دوسری ریاست میں چلے جاتے ہیں تو طالب علم اپنی پہلی منتخب کی گئی تیسری زبان جاری رکھ سکتا ہے۔ ایسے معاملات میں اسکول کو پڑھائی کا انتظام کرنا ہوگا۔ سی بی ایس ای نے کہا ہے کہ اسکول ضرورت پڑنے پر موجودہ اساتذہ، ریٹائرڈ اساتذہ، پوسٹ گریجویٹ اساتذہ اور آن لائن یا ہائبرڈ میڈیم کا استعمال کر سکتے ہیں۔

Published: undefined

بورڈ کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی نیشنل ایجوکیشن پالیسی (این ای پی) 2020 کے مطابق کیا جا رہا ہے۔ اس کا مقصد طلبہ پر امتحان کا بوجھ بڑھانا نہیں بلکہ ہندوستانی زبانوں فروغ دینا اور زبان سیکھنے کو آسان، دلچسپ اور مفید بنانا ہے۔ ساتھ ہی بورڈ نے یقین دلایا ہے کہ اس تبدیلی سے کسی بھی طالب علم کا نقصان نہیں ہونے دیا جائے گا۔

Published: undefined

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined