
آئی اے این ایس
نئی دہلی: مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) نے نیٹ یو جی 2026 پرچہ لیک معاملے میں ایک اہم ملزم کو مہاراشٹر سے گرفتار کر لیا ہے۔ گرفتار ملزم کی شناخت کیمسٹری کے لیکچرر پی وی کلکرنی کے طور پر ہوئی ہے، جو نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کی جانب سے امتحانی عمل سے وابستہ تھے اور انہیں خفیہ سوالیہ پرچوں تک رسائی حاصل تھی۔
Published: undefined
سی بی آئی کے مطابق پی وی کلکرنی نے اپریل 2026 کے آخری ہفتے میں 14 مئی کو گرفتار ہونے والی منیشا واگھمارے کی مدد سے کچھ طلبہ کو جمع کیا اور پونے میں واقع اپنی رہائش گاہ پر خصوصی کوچنگ کلاسیں چلائیں۔ جانچ ایجنسی کا کہنا ہے کہ ان کلاسوں کے دوران طلبہ کو ممکنہ سوالات، ان کے اختیارات اور درست جوابات لکھوائے گئے تھے۔
تحقیقات میں سامنے آیا ہے کہ طلبہ نے ان سوالات کو اپنی نوٹ بک میں ہاتھ سے تحریر کیا تھا اور بعد میں یہ سوالات 3 مئی 2026 کو منعقد ہونے والے اصل نیٹ امتحان کے سوالیہ پرچے سے پوری طرح مطابقت رکھتے پائے گئے۔
Published: undefined
سی بی آئی نے بتایا کہ تفصیلی پوچھ تاچھ کے بعد لاتور کے رہنے والے پی وی کلکرنی کو پونے سے گرفتار کیا گیا۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران جانچ ایجنسی نے ملک کے مختلف مقامات پر تلاشی مہم بھی چلائی، جہاں سے کئی اہم دستاویزات، الیکٹرانک آلات اور موبائل فون ضبط کیے گئے ہیں۔ ضبط شدہ سامان کا فارنسک اور تکنیکی تجزیہ جاری ہے۔
سی بی آئی نے یہ معاملہ 12 مئی کو وزارت تعلیم کے محکمہ اعلیٰ تعلیم کی تحریری شکایت کی بنیاد پر درج کیا تھا۔ شکایت میں نیٹ یو جی 2026 امتحان کے پرچہ لیک کی بات کہی گئی تھی۔ مقدمہ درج ہونے کے بعد خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئیں اور ملک بھر میں مختلف مقامات پر چھاپے مارے گئے۔
Published: undefined
اب تک جے پور، گروگرام، ناسک، پونے اور اہلیانگر سے سات ملزمین گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ ان میں سے پانچ ملزمین کو عدالت میں پیش کرنے کے بعد مزید پوچھ تاچھ کے لیے سات دن کی پولیس تحویل میں بھیج دیا گیا ہے۔
سی بی آئی حکام کے مطابق جانچ میں کیمسٹری کے سوالیہ پرچے کے لیک ہونے کے ذریعہ کا پتہ لگا لیا گیا ہے۔ ساتھ ہی ان دلالوں کی شناخت بھی کر لی گئی ہے، جنہوں نے لاکھوں روپے لے کر ایسے طلبہ کو جمع کیا تھا، جو خصوصی کوچنگ کلاسوں میں شامل ہوئے اور لیک سوالات پر مبنی تیاری کرتے رہے۔ جانچ ایجنسی نے کہا ہے کہ معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined