
دگ وجئے سنگھ، تصویر آئی اے این ایس
کانگریس لیڈر میناکشی نٹراجن کا راجیہ سبھا پرچۂ نامزدگی منسوخ ہونے پر کانگریس لیڈران نے بی جے پی کے خلاف محاذ کھول دیا ہے۔ کانگریس کے سینئر لیڈر اور راجیہ سبھا رکن دگ وجے سنگھ نے کہا کہ ریٹرننگ آفیسر کا فیصلہ غیر آئینی ہے، اسے برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ بھوپال میں میڈیا سے بات چیت کے دوران سینئر لیڈر دگ وجے سنگھ نے کہا کہ یہ بہت حیرانی کی بات ہے۔ یہ فیصلہ بدنیتی پر مبنی لگتا ہے۔ یہ بھی صاف ہے کہ پہلے بھی ایسے کئی معاملات ہوئے ہیں جن میں ایسی باتوں کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ اس معاملے میں ان کے خلاف کوئی ایف آئی آر یا مجرمانہ مقدمہ درج نہیں ہے۔ اس کے باوجود ان کا نامزدگی فارم منسوخ کر دیا گیا ہے۔ یہ انتہائی قابل اعتراض ہے۔
Published: undefined
کانگریس لیڈر دگ وجے سنگھ نے مزید کہا کہ کانگریس کا ایک وفد الیکشن کمیشن سے مل رہا ہے۔ اس بارے میں کوئی بھی معلومات ہمیں میٹنگ ختم ہونے کے بعد ہی ملے گی۔ ہم اس کے خلاف متحد ہو کر لڑیں گے۔ ریٹرننگ آفیسر کا فیصلہ غیر آئینی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ یہ جمہوریت کا قتل ہے۔ میناکشی نٹراجن کا راجیہ سبھا کا پرچۂ نامزدگی منسوخ کرنا غیر آئینی ہے۔ جس بنیاد پر نامزدگی منسوخ کی گئی، آج تک اس کی ایف آئی آر درج نہیں ہے۔ صرف نوٹس جاری ہوا ہے جس کا ذکر پرچۂ نامزدگی میں کرنا لازمی بھی نہیں ہے۔ یہ تو سراسر ووٹ چوری ہے۔ ہماری لڑائی جاری رہے گی۔
Published: undefined
دگ وجے سنگھ کے علاوہ کانگریس کے دیگر سینئر لیڈر کمل ناتھ کا بھی میناکشی نٹراجن معاملے میں بیان سامنے آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مدھیہ پردیش سے کانگریس کی راجیہ سبھا امیدوار میناکشی نٹراجن کا پرچۂ نامزدگی منسوخ کیا جانا مکمل طور پر غیر آئینی اور غیر جمہوری ہے۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) ملک میں جمہوریت اور آئین کا قتل کر رہی ہے۔ کانگریس پارٹی ہر سطح پر ناانصافی کے خلاف جدوجہد کرے گی۔
Published: undefined
مدھیہ پردیش سے کانگریس لیڈر جیتو پٹواری نے کہا کہ بی جے پی اور الیکشن کمیشن کے ہاتھ جمہوریت کے خون سے سنے ہوئے ہیں۔ آئین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے بی جے پی اور الیکشن کمیشن نے کانگریس امیدوار میناکشی نٹراجن کا پرچۂ نامزدگی منسوخ کیا۔ ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ اس کے خلاف بھوپال میں کانگریس کے تمام ساتھیوں کے ساتھ ایک روزہ بھوک ہڑتال کر کے اپنا احتجاج درج کرایا۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined