قومی خبریں

میناکشی نٹراجن کا پرچۂ نامزدگی منسوخ کرنا خواتین کی خودمختاری کے دعووں کے برعکس: سنجے راؤت

سنجے راؤت نے میناکشی نٹراجن پر درج مقدمے کے متعلق کہا کہ ’’میں یہ بات دعوے کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ ایسا کچھ بھی نہیں ہے، انہیں صرف ایک ’وجہ بتاؤ نوٹس‘ جاری ہوا تھا۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>سنجے راؤت / آئی اے این ایس</p></div>

سنجے راؤت / آئی اے این ایس

 

شیو سینا (یو بی ٹی) کے لیڈر سنجے راؤت نے مدھیہ پردیش سے کانگریس کی راجیہ سبھا امیدوار میناکشی نٹراجن کا پرچۂ نامزدگی مسترد کیے جانے کو ’سیاہ دن‘ قرار دیا ہے۔ انہوں نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میناکشی نٹراجن ایک سماجی کارکن ہیں۔ اس کے باوجود ان کی نامزدگی منسوخ کر دی گئی ہے۔ آخر یہ کیا ہے؟ ایک طرف آپ ’مہیلا شکتی وندن ادھینیم‘ لا کر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ آپ کے لیے خواتین کی خودمختاری اہمیت رکھتی ہے، تو دوسری طرف آپ ایک خاتون کی نامزدگی منسوخ کر دیتے ہیں۔ آخر کیوں؟ آپ نے ایسا کر کے ایک خاتون کی توہین کی ہے، جسے کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کیا جا سکتا۔

Published: undefined

سنجے راؤت نے میناکشی نٹراجن پر درج مقدمے کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ میناکشی نٹراجن کے خلاف کوئی بھی مقدمہ درج نہیں ہے۔ میں نے خود اس پوری صورتحال کو سمجھنے کی کوشش کی ہے، لہٰذا میں یہ بات دعوے کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ ایسا کچھ بھی نہیں ہے، انہیں صرف ایک ’وجہ بتاؤ نوٹس‘ جاری ہوا تھا۔ اب ان لوگوں کے لیے اصول و ضوابط اور قوانین بھی الگ ہو چکے ہیں، ایک ’ناری وندنا‘ اور ایک ’پروش وندنا‘۔ پرمل ناتھوانی جھارکھنڈ سے بی جے پی کی حمایت سے انتخاب لڑ رہے ہیں، ان کے نامزدگی فارم میں کچھ خامیاں تھیں لیکن وہاں کے ریٹرننگ آفیسر نے انہیں اپنی خامیاں دور کرنے کے لیے 24 گھنٹے کا وقت دیا۔ دوسری طرف یہ قانون نٹراجن کے معاملے میں نافذ نہیں کیا گیا ہے، بلکہ ان کی نامزدگی کو پوری طرح سے منسوخ کر دیا گیا ہے۔ آخر یہ دوہرا رویہ کیوں اپنایا جا رہا ہے؟ یہ جمہوریت کا قتل ہے۔

Published: undefined

راجیہ سبھا رکن سنجے راؤت نے وزیر اعظم مودی کے 12 سال مکمل ہونے کے موقع پر بھی ردعمل کا اظہار کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وزیر اعظم مودی کے دور حکومت کے پورے 12 سال مکمل ہو چکے ہیں، لیکن ان سالوں میں ایک دن بھی ایسا نہیں گزرا جب وزیر اعظم مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے متضاد رویہ اختیار نہ کیا ہو۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ یہ لوگ خاتون سیاستداں کو سیاست میں آنے سے روک رہے ہیں۔ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت میناکشی نٹراجن کی نامزدگی منسوخ کر رہے ہیں تاکہ انہیں راجیہ سبھا میں آنے سے روکا جا سکے، اور دوسری طرف یہی لوگ خاتون ووٹرس کو لبھانے کے مقصد سے ’مہیلا شکتی وندن ادھینیم‘ لا رہے ہیں۔ آخر ایسی صورتحال میں ایک خاتون کو انصاف کیسے ملے گا؟ اب ایسے میں سوال یہی ہے کہ کیا ہم چیف جسٹس سے انصاف کی امید کر سکتے ہیں؟ موجودہ وقت میں ہمارے عدالتی نظام کو پوری طرح سے تباہ کر کے رکھ دیا گیا ہے۔

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined