قومی خبریں

’کل جماعتی میٹنگ بلائیں اور خواتین ریزرویشن 2029 سے ہی نافذ کریں‘، کانگریس نے مودی حکومت سے پھر کیا مطالبہ

کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے ’ایکس‘ پر اپنی بات رکھتے ہوئے کہا کہ ’’اب انتخابی مہم ختم ہو چکی ہے۔ اب وزیر اعظم کو وہ کرنا چاہیے جس کا مطالبہ اپوزیشن مارچ 2026 سے لگاتار کر رہا ہے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>جئے رام رمیش / آئی اے این ایس</p></div>

جئے رام رمیش / آئی اے این ایس

 

خواتین ریزرویشن معاملہ پر کانگریس نے ایک بار پھر مرکز کی مودی حکومت کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ منگل کے روز کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے مطالبہ کیا کہ حکومت کو لوک سبھا کی موجودہ سیٹوں کے ساتھ ہی خواتین ریزرویشن نافذ کرنے پر گفت و شنید کرنی چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے جب وزیر اعظم اپنے گناہوں کا کفارہ کریں۔ کانگریس نے الزام عائد کیا کہ پی ایم مودی نے اپنے سیاسی ایجنڈے کے لیے ملک کی خواتین کا استعمال کیا ہے۔

Published: undefined

جئے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنی بات رکھتے ہوئے کہا کہ ’’اب انتخابی مہم ختم ہو چکی ہے۔ اپوزیشن کی یکجہتی کے سبب وزیر اعظم کی یہ (حد بندی والی) سازش ناکام ہو گئی ہے۔ اب وزیر اعظم کو وہ کرنا چاہیے جس کا مطالبہ اپوزیشن مارچ 2026 سے مستقل کر رہا ہے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ حکومت کو فوراً ایک کُل جماعتی میٹنگ طلب کرنی چاہیے۔ اس میٹنگ میں ’ناری شکتی وندن ایکٹ 2023‘ کو نافذ کرنے پر بات ہو۔

Published: undefined

کانگریس لیڈر نے کہا کہ خواتین ریزرویشن کو 2029 سے موجودہ سیٹوں پر ہی اثرانداز بنایا جانا چاہیے۔ جئے رام رمیش نے یاد دلایا کہ اس ایکٹ کو 16 اپریل 2026 کی دیر رات گھبراہٹ میں نوٹیفائی کیا گیا تھا۔ اب موجودہ تعداد کے ساتھ خواتین کو ریزرویشن دینا ممکن بھی ہے اور ضروری بھی۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس میں خواتین ریزرویشن کبھی اہم ایشو تھا ہی نہیں۔

Published: undefined

کانگریس کا الزام ہے کہ حکومت کا اصل مقصد حد بندی کرنا تھا۔ رمیش نے کہا کہ وزیر اعطم کے سیاسی وجود کو بچانے کےل یے حد بندی کا کھیل تیار کیا گیا تھا۔ خواتین کو انصاف دلانے کے لیے وزیر اعطم کو اب اپنی حکمت عملی بدلنی چاہیے۔ کانگریس نے مطالبہ کیا کہ مانسون اجلاس یا اس سے قبل بل لا کر موجودہ سیٹوں پر ہی کوٹہ نافذ ہو۔ اپوزیشن شروع سے ہی خواتین ریزرویشن کی آڑ میں حد بندی تھوپنے کی مخالفت کر رہا ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined