
ابھیشیک بنرجی / آئی اے این ایس
کولکاتا: کلکتہ ہائی کورٹ کی سنگل جج بنچ نے جمعرات کو ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے رکن پارلیمنٹ ابھشیک بنرجی کے بینک اکاؤنٹ پر ڈیبٹ پابندیاں عائد کرنے کے معاملے میں بینک حکام کو سخت پھٹکار لگائی۔ عدالت نے اس بات پر سوال اٹھایا کہ اگر ’کے وائی سی‘ اپ ڈیٹ آن لائن کیا جا سکتا ہے تو اس کے لیے بنرجی کی ذاتی طور پر بینک میں موجودگی کیوں ضروری تھی۔
جسٹس کرشنا راؤ کی بنچ کے سامنے سماعت کے دوران بینک حکام نے بتایا کہ ابھشیک بنرجی کے اکاؤنٹ پر ڈیبٹ پابندیاں کے وائی سی اپ ڈیٹ کرانے کے مقصد سے لگائی گئی تھیں۔ تاہم، بنرجی کے وکیل ایان بھٹاچاریہ نے عدالت کو بتایا کہ ان کے موکل کو کوئی پیشگی اطلاع دیے بغیر اکاؤنٹ پر پابندی عائد کی گئی اور ان کے دو کریڈٹ کارڈ بھی بلاک کر دیے گئے۔
وکیل نے عدالت میں دلیل دی کہ کے وائی سی اپ ڈیٹ کرنے کی وجہ کمزور ہے، کیونکہ موجودہ کے وائی سی کی مدت دسمبر میں ختم ہونے والی ہے۔ اس پر جسٹس راؤ نے بینک کے وکیل سے سوال کیا کہ جب کے وائی سی اپ ڈیٹ آن لائن ممکن ہے تو ڈائمنڈ ہاربر کے رکن پارلیمنٹ کو ذاتی طور پر بینک آنے کے لیے کیوں کہا گیا۔
بینک کے وکیل نے جواب دیا کہ بینک کو کچھ داخلی مسائل کا سامنا تھا، جس کی وجہ سے ابھشیک بنرجی سے کے وائی سی اپ ڈیٹ کے لیے ذاتی طور پر موجود رہنے کو کہا گیا تھا۔ تاہم، عدالت اس وضاحت سے مطمئن نہیں ہوئی۔ جسٹس راؤ نے واضح کیا کہ کسی شخص کو پیشگی اطلاع دیے بغیر اس کے اکاؤنٹ پر ڈیبٹ پابندیاں عائد کرنا قابل قبول نہیں ہے۔
اس کے بعد بینک کے وکیل نے ایک اور وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ابھشیک بنرجی کا نام، فون نمبر اور دیگر دستاویزات انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کے درج کردہ ایک معاملے سے منسلک ہیں۔ اسی وجہ سے کے وائی سی اپ ڈیٹ ضروری تھا۔ وکیل نے کہا کہ بینک کے حکام کھلی عدالت میں اس معاملے کی تفصیلات بیان کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔
اس وضاحت پر جسٹس راؤ مزید ناراض ہو گئے۔ انہوں نے بینک کے وکیل سے کہا کہ وہ کے وائی سی اپ ڈیٹ کی ضرورت کے بارے میں اپنی دلیل بار بار تبدیل نہ کریں اور عدالت کے سامنے واضح موقف رکھیں۔ ابھشیک بنرجی نے رواں ہفتے کے آغاز میں عدالت سے رجوع کیا تھا۔ ان کا الزام تھا کہ امریکہ میں آنکھوں کے علاج کے لیے روانگی سے عین قبل بینک حکام نے ان کے اکاؤنٹ پر ڈیبٹ پابندیاں عائد کر دیں، حالانکہ سپریم کورٹ نے اسی ماہ کے آغاز میں انہیں بیرون ملک سفر کی اجازت دے دی تھی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔