قومی خبریں

شہریت ترمیمی بل ملک کے مسلمانوں کے خلاف نہیں: بی جے پی

یہ تینوں ملک اسلامک ملک ہے اور لازمی ہے کہ یہاں پر مسلمانوں کے ساتھ مذہب کی بنیاد پر استحصال نہیں ہوسکتا ہے اس لئے ان ممالک کے مسلمانوں کو شہریت نہیں دی جاسکتی

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا 

نئی دہلی: بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے منگل کو پھر سے دوہرایا ہے کہ شہریت ترمیمی بل سے مسلمانوں سمیت ملک کی کے طبقات کے لوگوں کے حقوق پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ بی جے پی نے حیرانی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ملک کا قانون بنانے والے کانگریس کے لیڈروں کو بنیادی حقوق کی سمجھ تک نہیں ہے۔

بی جے پی کے ترجمان شاہنواز حسین نے یو این آئی سے کہا کہ میں ملک کے تمام مسلمان بھائی۔بہنوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کی طرف سے لایا گیا شہریت ترمیمی بل۔2019میں ملک کے مسلمانوں کے خلاف کچھ بھی نہیں ہے۔ اس ملک کا مسلمان اتنا ہی حق رکھتا ہے جتنا کوئی ہندو، سکھ، عیسائی یا جین۔

انہوں نے کہا کہ یہ بل ان لوگوں کو ہندستان میں پناہ دینے کے لئے ہے جو سخت گیری اور مذہب کی بنیاد پر متاثر ہیں۔ خاص طورپر پاکستان، بنگلہ دیش اورافغانستان میں۔ یہ تینوں ملک اسلامک ملک ہے اور لازمی ہے کہ یہاں پر مسلمانوں کے ساتھ مذہب کی بنیاد پر استحصال نہیں ہوسکتا ہے اس لئے ان ممالک کے مسلمانوں کو شہریت نہیں دی جاسکتی۔

شاہنواز حسین نے کہا کہ اپوزیشن خاص طورپر کانگریس جس نے گزشتہ 60 برس سے ملک کے مسلمانوں کے لئے کچھ نہیں کیا اب اقتدار ہاتھ سے جانے کے بعد مسلمانوں کو مذہب کے نام پر لڑانے کے مقصد سے اس بل کو ملک کے مسلمانوں سے جوڑکر دکھانے کی کوشش کررہی ہے۔ کیا کانگریس ملک کے مسلمانوں کو غیرملکی مانتی ہے جو اس بل کو ان سے جوڑ رہی ہے؟ کانگریس کے دل میں کھوٹ ہے!

انہوں نے کہاکہ اپوزیشن کہہ رہا ہے کہ یہ بل آرٹیکل 14(برابری کے حق) کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ آرٹیکل۔14کا شہریت ترمیمی بل سے کیا تعلق سے یہ مجھے سمجھ میں نہیں آرہا ہے۔ آرٹیکل ملک کے شہریوں میں برابری کے حق کی بات کرتا ہے اور شہریت ترمیمی بل کا ملک کے کسی بھی شہر ی کے حقوق سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ یہ بل تو دوسرے ممالک میں اسحتصال کے شکار اقلیتوں کو رہنے کا حق دینے کی بات کرتا ہے۔ یہ بل کیسے ملک کے شہریوں کے حقوق کی خلاف ورزی کرسکتا ہے؟ بڑا المیہ ہے کہ جنہوں نے ملک کا قانون بنایا انہیں بنیادی حقوق کے بارے میں بھی پتہ نہیں ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔