
3 لوک سبھا سیٹوں اور 29 اسمبلی سیٹوں پر گزشتہ دنوں ہوئے ضمنی انتخابات کے نتائج کا آج اعلان ہو گیا۔ بی جے پی کی کارکردگی اس بار مایوس کن رہی ہے۔ اس پر کانگریس ترجمان رندیپ سرجے والا نے ایک ٹوئٹ کیا ہے جس میں انھوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ٹوئٹ میں انھوں نے لکھا ہے ’’لوک سبھا ضمنی انتخابات میں بی جے پی کُل 3 میں سے 2 سیٹ ہاری ہے۔ اسمبلی انتخابات میں بھی جہاں کانگریس-بی جے پی کی سیدھی ٹکر ہے، بی جے پی کی شکست ہوئی ہے۔ ہماچل، راجستھان، کرناٹک، مہاراشٹر اس کا ثبوت ہیں۔‘‘ وہ مزید لکھتے ہیں ’’مودی جی، ضد چھوڑیں! 3 سیاہ قوانین واپس لیں۔ پٹرول-ڈیزل-گیس کی لوٹ بند کریں۔ تکبر کو چھوڑیں۔‘‘
کئی ریاستوں میں لوک سبھا اور اسمبلی سیٹوں کے لیے ہوئے ضمنی انتخابات کا نتیجہ آج برآمد ہو گیا۔ ان نتائج میں کانگریس کی بہتر کارکردگی سامنے آئی ہے اور کئی مقامات پر بی جے پی کو زبردست مایوسی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ کانگریس کی کامیابی کے بعد راہل گاندھی نے کہا ہے کہ ’’کانگریس کی ہر جیت ہماری پارٹی کے کارکنوں کی جیت ہے۔ نفرت کے خلاف لڑتے رہو۔ ڈرو مت!‘‘
ہماچل پردیش میں کانگریس نے بی جے پی کو بڑا جھٹکا دیا ہے۔ وہیں، منڈی لوک سبھا سیٹ کے ضمنی انتخاب میں کانگریس کی پرتبھا سنگھ نے بی جے پی کے کوشل ٹھاکر کو شکست دی۔ ہماچل میں تین اسمبلی سیٹوں کے لیے بھی انتخابات ہوئے۔ ان پر بھی کانگریس کو جیت حاصل ہوئی ہے۔
راجستھان کی دو سیٹوں پر ضمنی انتخابات کے ووٹوں کی گنتی جاری ہے، جن میں سے دھاریاواڑ سیٹ کے نتیجہ کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ یہاں سے کانگریس کے ناگراج مینا تقریباً 21 ہزار ووٹوں سے فتحیاب ہوئے ہیں۔ دھاریاواڑ سیٹ اس سے پہلے بی جے پی کے قبضہ میں تھی اور یہاں سے رکن اسمبلی گوتم لال مینا کا انتقال ہو گیا تھا، جس کے یہ سیٹ خالی ہوئی تھی۔ ادھر، ولبھ نگر سیٹ سے بھی کانگریس 6 ہزار ووٹوں سے آگے چل رہی ہے۔
ضمنی انتخابات کے لئے ڈالے گئے ووٹوں گنتی کے اب تک کے رجحانات کے مطابق راجستھان میں کانگریس، مغربی بنگال میں ٹی ایم سی اور مدھیہ پردیش میں بی جے پی آگے چل رہی ہے۔
ملک بھر کی تین پارلیمانی اور 13 ریاستوں کی 29 اسمبلی سیٹوں پر ہونے والے ضمنی انتخابات کے ووٹوں کی گنتی آج کی جا رہی ہے۔ اس دوران ووٹ شماری کے مراکز پر سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے ہیں۔
دادرا اور نگر حویلی، ہماچل پردیش کی منڈی اور مدھیہ پردیش کی کھنڈوا لوک سبھا سیٹوں کے لیے گنتی جاری ہے۔ ساتھ ہی، 29 اسمبلی سیٹوں میں جہاں ووٹوں کی گنتی ہو رہی ہے، ان میں سے 5 آسام میں، 4 مغربی بنگال میں، 3-3 مدھیہ پردیش، ہماچل پردیش اور میگھالیہ میں، 2-2 بہار، راجستھان اور کرناٹک میں واقع ہیں، جبکہ آندھرا پردیش، ہریانہ، مہاراشٹر، میزورم اور تلنگانہ میں ایک ایک سیٹ ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: 02 Nov 2021, 9:46 AM IST