
مرکزی وزیر مالیات نرملا سیتارمن نے آج سال 22-2021 کا جو عام بجٹ پارلیمنٹ میں پیش کیا ہے، اس سے کاروباری طبقہ بھی ناخوش دکھائی دے رہا ہے۔ کورونا وبا میں معیشت پر آئے بحران کے بعد ملک کے پہلے بجٹ سے عام لوگوں کو کافی امیدیں تھیں ہی، کاروباری طبقہ بھی امید بھری نظروں سے مودی حکومت کی طرف دیکھ رہا تھا۔ لیکن بجٹ منظر عام پر آنے کے بعد سبھی کی امیدیں ٹوٹ گئیں۔ بجٹ کو لے کر ’فیڈریشن آف آل انڈیا ویاپار منڈل‘ نے رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’یہ بجٹ متوسط طبقہ، جس میں خوردہ تاجر بھی شامل ہیں، کے لیے مایوس کن ہے۔‘‘
فیڈریشن کے مطابق 13 مینوفیکچرنگ سیکٹرس میں اگلے پانچ سالوں میں 1.97 لاکھ کروڑ کا پروڈکشن انسینٹیو دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ حکومت منظم سیکٹر کو انسینٹیو دے کر روزگار بڑھانا چاہتی ہے، لیکن حکومت یہ بھول رہی ہے کہ غیر منظم سیکٹر 90 فیصد روزگار دیتا ہے اور منظم سیکٹر محض 10 فیصد روزگار پیدا کرتا ہے۔ بدقسمتی سے حکومت نے 90 فیصد کے تعلق سے بجٹ میں کوئی انتظام نہیں کیا۔
فیڈریشن نے مزید کہا کہ ’’بجٹ میں ایسی کوئی سہولت نہیں ہے جس سے صارفین کی قوت خرید میں اضافہ ہو۔ انفراسٹرکچر کے بڑھنے سے کارپوریٹ اور زرعی شعبہ کو فائدہ ملے گا۔ کاروباریوں کو نہ تو کوئی ٹیکس چھوٹ ملی ہے اور نہ ہی بینک کے شرح سود میں کوئی چھوٹ دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ جی ایس ٹی اِن پٹ ٹیکس کریڈٹ میں اب بہت زیادہ ورکنگ کیپٹل کے بلاک ہونے کا امکان ہے کیونکہ فروخت کنندگان کے ذریعہ جی ایس ٹی آر 1 داخل کرنے پر ہی اب اِن پٹ ٹیکس کریڈٹ ملے گا۔ انکم ٹیکس کے کچھ ضابطے کاروباری آسانی فراہم کریں گے، ورنہ ٹیکس میں کاروباریوں کو کوئی فائدہ نہیں ہے۔‘‘
فیڈریشن کا کہنا ہے کہ ’’آئندہ 6 سالوں میں 64180 کروڑ روپے خرچ سے خودکفیل صحت منصوبہ میں ملک کے کاروباریوں کو بھی استفادہ یقینی ہونا چاہیے۔ مجموعی طور پر یہ بجٹ متوسط طبقہ سے تعلق رکھنے والے لوگوں، جس میں خوردہ کاروباری بھی شامل ہیں، کے لیے مایوسی والا بجٹ ہے۔‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
تصویر: پریس ریلیز