
مایاوتی اور آکاش آنند کی فائل تصویر / آئی اے این ایس
ملک کی 4 ریاستوں اور ایک مرکز کے زیر انتظام علاقہ کے انتخابی نتائج سامنے آ گئے ہیں۔ اس میں سے 3 ریاستوں میں اقتدار تبدیل ہو گئی ہے۔ تمل ناڈو میں اداکار سے سیاستداں بنے وجے کی پارٹی تملگا ویتری کژگم (ٹی وی کے) کے برسراقتدار ہونے کا راستہ ہموار ہو گیا ہے۔ اس درمیان بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کے لیے برے دن ختم نہیں ہو رہے ہیں۔ بی ایس پی نے مغربی بنگال، تمل ناڈو اور کیرالہ کے اسمبلی انتخابات میں بھی اپنی قسمت آزمائی تھی، لیکن تینوں ہی ریاست میں اسے مایوسی ہاتھ لگی۔ ان ریاستوں میں کھاتہ کھولنا تو دور پارٹی کو ایک فیصد ووٹ بھی نہیں مل سکا۔
Published: undefined
مایاوتی پارٹی میں تنظیم کو مضبوط کرنے، دلت-مسلم اتحاد قائم کرنے اور نوجون چہرہ آکاش آنند کو آگے بڑھانے کی حکمت عملی میں مصروف تھیں، لیکن انتخابی نتائج میں یہ حکمت عملی مکمل طور پر ناکام ہو گئی۔ پارٹی کے قومی کنویز آکاش آنند سمیت ان کے سسر اشوک سدھارتھ اور دیگر سینئر لیڈران نے جم کر انتخابی مہمات چلائیں، تابڑ توڑ انتخابی ریلیاں بھی کیں، لیکن نتائج مایوس کن رہے۔
Published: undefined
واضح رہے کہ مغربی بنگال میں آکاش آنند کی ریلی میں اچھی خاصی بھیڑ اکٹھی ہونے کے باوجود پارٹی کا کھاتہ نہیں کھل سکا۔ تینوں ریاستوں میں بی ایس پی کی کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی۔ بی ایس پی کے کھاتے میں مغربی بنگال میں 0.18 فیصد، تمل ناڈو میں 0.11 فیصد اور کیرالہ میں 0.15 فیصد ووٹ ہی آئے۔
Published: undefined
قابل ذکر ہے کہ گزشتہ مغربی بنگال اسمبلی انتخاب میں مایاوتی نے خود کئی عوامی ریلیاں کی تھیں اور 200 سے زائد امیدوار انتخابی میدان میں اتارے تھے۔ اس وقت بھی پارٹی کو کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں ہوا تھا۔ اس بار مایاوتی کی عدم موجودگی کو بھی پارٹی کی ناکامی کی ایک بڑی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ بی ایس پی جنوبی ہندوستان میں بھی اپنی جڑیں جمانا چاہ رہی تھی، لیکن وہاں اس کے لیے کامیابی حاصل کرنا دور کی بات لگ رہی ہے۔ پورے بنگال میں بی ایس پی کو صرف 0.11 فیصد یعنی 53369 ووٹ ہی ملے۔
Published: undefined
بہار میں گزشتہ سال ہوئے اسمبلی انتخاب میں بی ایس پی کو ایک سیٹ پر جیت حاصل ہوئی تھی اور اس کامیابی سے پارٹی کو کچھ امیدیں بندھی تھیں، لیکن پڑوسی ریاست مغربی بنگال میں اسے پھر مایوسی ہاتھ لگی۔ اسی طرح تمل ناڈو اور کیرالہ میں بھی کچھ سیٹوں پر جیت کی امید تھی، لیکن کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔ حالیہ انتخابی نتائج نے واضح کر دیا ہے کہ بی ایس پی کو خاص طور سے جنوبی ہندوستان کی ریاستوں میں اپنی جڑیں جمانے کے لیے طویل جدوجہد کرنی پڑے گی۔ فی الحال ان ریاستوں میں پارٹی کا ووٹ بینک نہ ہونے کے برابر رہ گیا ہے۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined
تصویر: سوشل میڈیا