
علامتی تصویر
چھتیس گڑھ کی ’اندرا گاندھی زرعی یونیورسٹی‘ (آئی جی اے یو)، رائے پور میں بی ایس سی (ایگریکلچر) کے سال دوئم کا پیپر لیک ہونے کے بعد ہنگامہ کھڑا ہو گیا ہے۔ واٹس ایپ پر لیک ہونے والا سوالنامہ اصل امتحان کے سوالنامے سے 70 فیصد تک میل کھاتا ہے۔ یہ پتہ چلنے کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ نے فوراً امتحان منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا۔ وزیر اعلیٰ وشنو دیو سائے نے بھی اس معاملے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کے احکامات دیے ہیں۔
معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے یونیورسٹی انتظامیہ نے نہ صرف امتحان منسوخ کیا ہے، بلکہ 5 رکنی تحقیقاتی کمیٹی بھی تشکیل دے دی ہے۔ ساتھ ہی پورے معاملے کی تہہ تک پہنچنے کے لیے پولیس میں شکایت درج کرائی جا رہی ہے۔ اس معاملہ میں وزیر اعلیٰ وشنو دیو سائے نے کہا کہ ’’یونیورسٹی انتظامیہ نے امتحان منسوخ کر دیا ہے اور 5 رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ اس پیپر لیک معاملے کی جانچ ہوگی اور جو بھی قصوروار پایا جائے گا، اس کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کی جائے گی۔‘‘
یہ معاملہ جمعرات (20 اگست) کو منعقد ہونے والے بی ایس سی (ایگریکلچر) سال دوئم، سیکنڈ سمسٹر کے اینٹومولوجی کے امتحان سے متعلق ہے۔ ریاست بھر کے 34 منسلک کالجوں میں صبح 10 بجے سے دوپہر ایک بجے کے درمیان تقریباً 500 طلبا نے یہ امتحان دیا تھا۔ امتحان ختم ہوتے ہی سوشل میڈیا اور واٹس ایپ پر ایک ڈاکومنٹ وائرل ہونے لگا۔ اس کے بعد ’نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا‘ (این ایس یو آئی) اور ’اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد‘ (اے بی وی پی) کے کارکنوں نے یونیورسٹی کیمپس پہنچ کر زبردست احتجاج درج کیا اور امتحان منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔ چاروں طرف سے دباؤ کے بعد شام کو امتحان کنٹرولر نے سرکاری حکم جاری کر کے امتحان منسوخ کر دیا۔
یونیورسٹی کے رجسٹرار ڈاکٹر کپل دیو دیپک کے مطابق صبح 9:30 بجے امتحان مراکز پر سوالیہ پرچوں کے پیکٹ کھولے گئے تھے۔ واٹس ایپ پر گردش کرنے والی فائل پرچے کے فارمیٹ کی نہیں تھی، لیکن اس میں درج سوالات اصل سوالیہ پرچے سے تقریباً 70 فیصد تک میل کھا رہے تھے۔ اسی بنیاد پر امتحان منسوخ کر کے ٹیلی بندھا تھانے میں ایف آئی آر درج کرائی جا رہی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ پرچہ اندرونی سطح سے لیک ہوا یا باہر سے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔