قومی خبریں

پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کی کارروائی غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی، اسپیکر کی چائے پارٹی کا اپوزیشن نے کیا بائیکاٹ

کانگریس ذرائع کا کہنا ہے کہ اسپیکر نے حسب روایت تقریر نہیں کی اور نہ ہی یہ بتایا کہ پارلیمنٹ کا کام کاج کیسا رہا، اس لیے حزب اختلاف نے لوک سبھا اسپیکر کی روایتی چائے پارٹی کا بائیکاٹ کیا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>نئی پارلیمنٹ/ آئی اے این ایس</p></div>

نئی پارلیمنٹ/ آئی اے این ایس

 

پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس آج یعنی جمعرات کے روز اختتام پذیر ہو گیا۔ دونوں ایوانوں کی  کارروائی غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی گئی۔ اس کے بعد اسپیکر کی جانب سے چائے پارٹی کا اہتمام کیا گیا۔ جس کا اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی اور ملیکا ارجن کھرگے سمیت کئی اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ نے اس چائے پارٹی کا بائیکاٹ کیا۔ وزیر اعظم مودی، امت شاہ، راجناتھ سنگھ سمیت این ڈی اے کے کئی لیڈران اس چائے پارٹی میں موجود تھے۔ مگر کانگریس اور اپوزیشن کے کوئی بھی فلور لیڈر اس چائے پارٹی میں نہیں پہنچے، لیکن ڈی ایم کے کی واحد لیڈر کنیموزی اسپیکر کی چائے پارٹی میں شامل ہوئیں۔

کانگریس ذرائع کا کہنا ہے کہ اسپیکر نے حسب روایت تقریر نہیں کی اور نہ ہی یہ بتایا کہ پارلیمنٹ کا کام کاج کیسا رہا، اس لیے حزب اختلاف نے ان کی روایتی چائے پارٹی کا بائیکاٹ کیا ہے۔ اس سے قبل چائے پارٹی میں پرینکا گاندھی کو بھیجنے کا پروگرام تھا۔ دوسری جانب سونیا گاندھی اور ملیکا ارجن کھرگے بھی جانے والے تھے۔ پارلیمنٹ کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی ہونے کے بعد لوک سبھا اسپیکر کی جانب سے یہ میٹنگ رکھی جاتی ہے۔ اس کا مقصد حکمراں جماعت اور اپوزیشن کے درمیان باہمی تلخی کو کم کرنا اور خوشگوار ماحول قائم کرنا ہوتا ہے۔

مگر یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب اپوزیشن نے اس چائے پارٹی کا بائیکاٹ کیا تو ڈی ایم کے سے کنیموزی اس چائے پارٹی میں کیوں پہنچیں؟ دراصل کنیموزی کا اس چائے پارٹی میں شامل ہونا ایک بڑا سیاسی قدم بتایا جا رہا ہے۔ اس کے پیچھے وجوہات ہیں کانگریس سے اتحاد ٹوٹنا، جنوبی ہندوستان میں نمائندگی کی لڑائی اور حد بندی پر دو تہائی اکثریت۔ ڈی ایم کے نے حال ہی میں کانگریس سے اپنا اتحاد توڑ لیا ہے۔ کنیموزی کا اتحاد میں شامل ہونا یہ بھی اشارہ کرتا ہے کہ اگرچہ ڈی ایم کے این ڈی اے کے ساتھ نہیں ہے، لیکن یہ مکمل طور پر حد بندی کے خلاف نہیں ہے۔

دراصل ڈی ایم کے چاہتی ہے کہ حد بندی جائز ہو، تاکہ تمل ناڈو کی آواز پارلیمنٹ میں کمزور نہ ہو۔ ڈی ایم کے کو پتہ ہے کہ صرف پارلیمنٹ کے اندر ہنگامہ کرنے یا کانگریس کے ساتھ بائیکاٹ کرنے سے تمل ناڈو کے مفادات کی حفاظت نہیں ہوگی۔ اس کے لیے برسراقتدار جماعت اور لوک سبھا اسپیکر کے ساتھ گفتگو کا راستہ کھلا رکھنا بے حد ضروری ہے۔ تاکہ جب حد بندی بل آئے تو ریاست کے موقف کو مضبوطی کے ساتھ پیش کیا جا سکے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔