
اسکول، کالج سمیت دیگر سرکاری دفاتر کو بم سے اُڑانے کی دھمکی دے کر عام لوگوں میں افراتفری پھیلانے کا سلسلہ جاری ہے۔ تازہ معاملہ مہاراشٹر میں سامنے آیا ہے جہاں ممبئی کے بی کے سی پاسپورٹ آفس کو بم سے اُڑانے کی دھمکی دی گئی۔ گزشتہ روز اس دھمکی سے اس وقت تک افراتفری کا ماحول رہا جب تک سیکورٹی ایجنسیوں نے احاطے کو محفوظ اعلان نہیں کردیا۔ یہ دھمکی ای میل کے ذریعے دی گئی تھی، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاسپورٹ آفس اور آفس کے واش روم میں سائینائیڈ گیس سے بھرے 19 بم رکھے گئے ہیں، جو دوپہر 1:30 بجے پھٹ جائیں گے۔ اطلاع ملتے ہی پولیس اور بم ڈسپوزل اسکواڈ جائے وقوعہ پر پہنچ گیا۔
Published: undefined
ٹیم نے پورے احاطے کو خالی کرالیا اور چپے چپے کی تلاشی لی لیکن کوئی مشتبہ چیز نہیں ملی، جس سے حکام نے راحت کی سانس لی۔ جس ای میل سے دھمکی بھیجی گئیں اس کی تفصیلات اور پورے معاملے کی چھان بین کی جا رہی ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز بی کے سی پاسپورٹ آفس کو 3 ای میل موصول ہوئی تھیں جن میں دھمکی دی گئی تھی کہ پاسپورٹ آفس اور اس کے واش روم میں سائینائیڈ گیس سے بھرے 19 بم رکھے گئے ہیں، جو آج دوپہر 1:30 بجے پھٹ جائیں گے۔ یہ ای میل Sourav_biswas21@hotmail.com، rpo.mumbai@mea.gov.in اور rpo.mumbai@cpo.gov.in دفتر سے متعلق تھیں۔
Published: undefined
دھمکی کی اطلاع فوری طور پر ایجنسیوں اور پولیس کو دی تئی ۔ جس کے بعد سیکورٹی ایجنسیاں فوراً حرکت میں آگئیں۔ وہیں اطلاع ملتے ہی بی کے سی پولیس اسٹیشن کے سینئر افسران، اے ٹی ایس کی ٹیم اور یونٹ 8 کے افسران جائے وقوعہ پر پہنچے اور پورے احاطے کو اپنے کنٹرول میں لے کر تحقیقات شروع کردی۔ احتیاطی تدابیر کے طور پر بی ڈی ڈی ایس (بم ڈیٹیکشن اینڈ ڈسپوزل اسکواڈ) اور ڈاگ اسکواڈ نے ودیش بھون واقع پاسپورٹ آفس کی لابی، مرکزی دروازے، انٹری گیٹ کے ذریعہ آنے جانے والے راستوں، پیڑپودوں اور آس پاس کے علاقے کی گہرائی سے تلاشی لی۔
Published: undefined
اس دوران کوئی مشکوک یا قابل اعتراض چیز نہیں ملی، جس سے حکام نے راحت کی سانس لی۔ تاہم پولیس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے چوکس ہے۔ پولیس نے سائبر پولیس اسٹیشن کے ذریعے مشکوک ای میل آئی ڈی کے حوالے سے معلومات اکٹھی کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے اور مزید تفتیش کر رہی ہے۔ پاسپورٹ آفس کے سیکیورٹی اہلکاروں کو بھی چوکس رہنے اور حفاظتی معیارات پر عمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined