
کیرالہ میں ایک تقریب کے دوران راہل گاندھی، تصویر ’ایکس‘ @INCIndia
لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد اور کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے پیر کو کیرالہ واقع کوچی میں اپنے خطاب کے دوران آر ایس ایس اور بی جے پی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ بلدیاتی نمائندوں کی مہاپنچایت کو خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ بی جے پی اور کانگریس کے نظریوں میں واضح فرق ہے۔ آر ایس ایس اور بی جے پی اقتدار کی مرکزیت میں یقین رکھتی ہیں اور چاہتی ہیں کہ مکمل طاقت ایک جگہ محدود ہو کر رہ جائے۔ بی جے پی اور آر ایس ایس لیڈران ہندوستان کے لوگوں سے اطاعت چاہتے ہیں، وہ ہندوستان کے لوگوں کی آواز نہیں سننا چاہتے۔ اس کے برعکس کانگریس عدم مرکزیت کی حامی ہے۔ کانگریس کا ماننا ہے کہ طاقت کو ایک جگہ رکھنے کے بجائے اسے عام لوگوں اور مقامی اداروں میں تقسیم کیا جانا چاہیے۔
Published: undefined
راہل گاندھی نے اپنے خطاب کے دوران الزام عائد کیا کہ بی جے پی کی خواہش یہی رہی ہے کہ ملک میں سبھی خاموش رہیں اور صرف کچھ چنندہ کارپوریٹ ہی ترقی کریں۔ انہوں نے مرکزی حکومت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ قومی اثاثوں پر قبضہ کرنے کی خواہش رکھنے والے کچھ صنعت کاروں کو فائدہ پہنچانے کے لیے لوگوں کی جمہوری آواز کو دبایا جا رہا ہے۔ کیرالہ کے لوگوں کی ہمت کی تعریف کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ ’’میں صد فیصد یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ کوئی بھی کیرالہ کے لوگوں کو خاموش نہیں کرا سکتا۔‘‘
Published: undefined
اس تقریب کے دوران کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے 98 سالہ مصنفہ اور ماہر تعلیم ایم لیلاوتی کو ’پریہ درشنی ساہتیہ پرسکار‘ سے نوازا۔ انہوں نے لیلاوتی کو ملک کے لیے ایک تحریک قرار دیا اور ان کی تعریف کی۔ کانگریس لیڈر نے ان کے خیالات کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ’’عظیم قوم خاموشی سے نہیں، بلکہ اپنی رائے کے اظہار سے بنتی ہے۔ جب لوگ غلط ہوتے دیکھ کر بھی خاموش رہتے ہیں تو یہ خطرناک ہے۔‘‘ ایوارڈ کو قبول کرتے ہوئے لیلاوتی نے اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی کو یاد کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہندوستان کو راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی کے ہاتھوں میں محفوظ دیکھتی ہیں۔ انہوں نے اپنی انعامی رقم ’راجیو گاندھی فاؤنڈیشن‘ کو عطیہ کر دی۔ ساتھ ہی انہوں نے راہل گاندھی کی جدوجہد کی تعریف کی اور وائناڈ کے ساتھ ان کے خصوصی لگاؤ پر خوشی ظاہر کی۔
Published: undefined
بہرحال، اپنے خطاب کے دوران راہل گاندھی نے کہا کہ ہم نے دہلی میں کئی سینئر لیڈران کے ساتھ میٹنگیں کیں۔ اس دوران سب نے یہی کہا کہ یو ڈی ایف (یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ) پنچایت انتخاب اور اسمبلی انتخاب جیتنے جا رہی ہے۔ لیکن سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ انتخاب میں جیت حاصل کرنے کے بعد آپ کیا کریں گے؟ راہل گاندھی نے کہا کہ یہ سوال یو ڈی ایف اور کیرالہ کانگریس کے لیڈران سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں بے روزگاری کے مسائل ہیں۔ یو ڈی ایف اور کانگریس پارٹی کو کیرالہ کے لیے ایک ایسا ویژن دینا ہوگا جو ان تمام مسائل کو حل کرے۔ مجھے یقین ہے کہ اس اسٹیج پر موجود قیادت میں یہ سمجھنے کی صلاحیت ہے کہ کیرالہ کے لوگ کیا چاہتے ہیں اور وہ کیرالہ کے لوگوں کی ضرورتوں کو پورا کریں گے۔
Published: undefined