
کانگریس لیڈر سندیپ دیکشت / آئی اے این ایس
نئی دہلی: انڈیا اے آئی سمٹ میں کیے گئے احتجاج کی پاداش میں یوتھ کانگریس کارکنوں کے خلاف کی گئی پولیس کارروائی پر کانگریس نے شدید برہمی ظاہر کی ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ احتجاج جمہوری حق ہے، لیکن اس کے بعد جس انداز میں گرفتاریاں اور مقدمات درج کیے گئے، وہ غیر معمولی اور جانبدارانہ معلوم ہوتے ہیں۔
Published: undefined
کانگریس کے سینئر رہنما سندیپ دیکشت نے آئی اے این ایس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں اس سے پہلے بھی مختلف مواقع پر احتجاج ہوتے رہے ہیں اور انہیں جمہوری عمل کا حصہ سمجھا جاتا رہا ہے۔ ان کے مطابق انڈیا اے آئی سمٹ کے دوران یوتھ کانگریس نے اپنا احتجاج درج کرایا، تاہم اس کے بعد کارکنوں کے خلاف جو کارروائی کی گئی، وہ غیر ضروری طور پر سخت ہے۔
Published: undefined
سندیپ دیکشت نے الزام لگایا کہ دہلی پولیس یوتھ کانگریس کے کارکنوں کو پھنسانے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں اس سے بڑے مظاہرے دیکھے گئے، بعض مواقع پر حالات زیادہ کشیدہ رہے، مگر اس نوعیت کی کارروائی کم ہی دیکھنے کو ملی۔ ان کے بقول اگر کسی کو احتجاج پسند نہیں تو یہ الگ بات ہے، لیکن اسے جرم کا درجہ دینا مناسب نہیں۔
انہوں نے بی جے پی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پارٹی قیادت کو یہ احتجاج ناگوار گزرا ہے، اسی لیے قواعد سے ہٹ کر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق اختلاف رائے کو برداشت نہ کرنے کا رجحان جمہوری نظام کے لیے اچھا نہیں۔
Published: undefined
کانگریس رہنما نے مزید کہا کہ پولیس کو قانون کے مطابق کام کرنا چاہیے، نہ کہ کسی سیاسی دباؤ میں۔ ان کے بقول اگر اپوزیشن حکومت کی پالیسیوں پر سوال اٹھاتی ہے تو اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرنا مناسب طرز عمل نہیں ہے۔
سندیپ دیکشت نے کہا کہ یوتھ کانگریس کارکنوں کی گرفتاری اور انہیں جیل میں رکھنا جمہوری حقِ احتجاج پر قدغن کے مترادف ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس معاملے میں منصفانہ رویہ اختیار کیا جائے اور سیاسی اختلاف کو جرم نہ بنایا جائے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined
تصویر سوشل میڈیا