قومی خبریں

ٹکٹ نہ ملنے پر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے بی جے پی کے رکن اسمبلی، پیسے لے کر امیدوار کھڑا کرنے کا الزام

بی جے پی نے اپنے کئی موجودہ ارکان اسمبلی کے ٹکٹ منسوخ کر کے دوسرے لیڈروں پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ جس کی وجہ سے پارٹی کے اندر سے احتجاج کی آوازیں اٹھنے لگی ہیں

<div class="paragraphs"><p>تصویر سوشل میڈیا</p></div>

تصویر سوشل میڈیا

 

بھوپال: مدھیہ پردیش میں اسمبلی انتخابات کے ٹکٹ کو لے کر سبھی بی جے پی لیڈروں کے درمیان زبردست رسہ کشی جاری ہے۔ جیسے ہی پارٹی کی 5ویں فہرست جاری ہوئی، ہنگامہ ہو گیا۔ پارٹی نے اپنے کئی موجودہ ارکان اسمبلی کے ٹکٹ منسوخ کر کے دوسرے لیڈروں پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ جس کی وجہ سے پارٹی کے اندر سے احتجاج کی آوازیں اٹھنے لگی ہیں۔

Published: undefined

بی جے پی نے چھتر پور ضلع کی چاندلا سیٹ سے ایم ایل اے راجیش پرجاپتی کا ٹکٹ منسوخ کر دیا۔ اس سے ناراض پرجاپتی نے اپنی ہی پارٹی کے ریاستی صدر وی ڈی شرما پر پیسے لے کر ٹکٹ دینے کا الزام لگایا۔ صرف اتنا ہی نہیں راجیش پرجاپتی کا کہنا ہے کہ جس لیڈر کو ٹکٹ دیا گیا ہے وہ مجرم ہے، جوا کھلاتا ہے اور غلط کام کرتا ہے۔

Published: undefined

بی جے پی ایم ایل اے راجیش پرجاپتی نے کہا کہ جس شخص نے غلط کیا اسے اسمبلی ٹکٹ دیا گیا ہے۔ ایسے لیڈر کو کون کھڑا کرے گا؟ سروے میں میرا نام بھی تھا، پھر ٹکٹ کیسے کاٹا گیا؟ اور یہ کہتے ہی راجیش پرجاپتی میڈیا کے کیمروں پر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔

Published: undefined

ایم ایل اے پرجاپتی نے اپنے حامیوں اور بی جے پی لیڈروں کے ساتھ میٹنگ کی۔ یہ میٹنگ عالم دیوی مندر میں بلائی گئی تھی۔ جہاں چاندلا کے سابق ایم ایل اے وجے بہادر سنگھ نے بھی شرکت کی۔ میٹنگ میں ایم ایل اے کا ٹکٹ کٹے جانے پر حامیوں نے ناراضگی کا اظہار کیا۔

اس ملاقات میں انہوں نے چاندلا کے امیدوار کی مخالفت کرنے کی بات کی۔ ٹکٹ سے انکار کے بعد ایم ایل اے راجیش پرجاپتی نے بی جے پی کے ریاستی صدر وی ڈی شرما پر بھی سنگین الزامات لگائے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے ان لوگوں کو ٹکٹ دیا ہے جو جوا اور سٹے بازی میں ملوث ہے۔

Published: undefined

دوسری طرف، بھارتیہ جنتا پارٹی نے پانچویں فہرست میں سیہور ضلع کے آسٹا اسمبلی سے موجودہ ایم ایل اے رگھوناتھ مالویہ کا ٹکٹ منسوخ کر دیا اور ضلع پنچایت صدر گوپال سنگھ کو اپنا امیدوار قرار دیا۔ جس کے بعد گوپال سنگھ کے خلاف احتجاج شروع ہو گیا ہے۔ اتوار کو بی جے پی کے دو دھڑوں کی میٹنگ ہوئی۔ جس میں موجودہ ایم ایل اے رگھوناتھ مالویہ نے شرکت کی۔ اس دوران اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ رگھوناتھ مالویہ نے کہا کہ میں نے ہمیشہ لوگوں کی خدمت کی ہے۔ ایم ایل اے کی رونے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے۔

Published: undefined

گوپال سنگھ 2018 کے انتخابات میں آشٹا اسمبلی سے کانگریس کے امیدوار تھے اور انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس سے پہلے بھی انہوں نے کانگریس کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا تھا، لیکن کوئی کامیابی نہیں ملی تھی۔ اسی دوران گوپال سنگھ نے گزشتہ سال کانگریس چھوڑ کر اپنے کئی کارکنوں کے ساتھ بھارتیہ جنتا پارٹی میں شمولیت اختیار کی، جس کے بعد وہ ضلع پنچایت کے صدر منتخب ہوئے۔ اور اس کے ساتھ ہی اب بھارتیہ جنتا پارٹی نے گوپال سنگھ کو ایک اور بڑا تحفہ دیتے ہوئے انہیں آشٹا سے اپنا امیدوار قرار دیا ہے۔ لیکن امیدوار کے اعلان کے ساتھ ہی مقامی سطح پر گوپال سنگھ کی مخالفت بھی شروع ہو گئی ہے۔

Published: undefined

ریوا ضلع کے منگاون سے بی جے پی ایم ایل اے پنچولال پرجاپتی نے بھی ٹکٹ کی مخالفت درج کرائی۔ ایم ایل اے نے الزام لگایا کہ انہوں نے پیسے کی بنیاد پر دوسری پارٹی کے لیڈر کو ٹکٹ دیا ہے۔ یہ بھی کہا کہ ٹکٹ کی ادائیگی کس نے کی اس کا نام جلد سامنے لایا جائے گا۔

Published: undefined

مدھیہ پردیش میں کانگریس کو تقریباً 42 سیٹوں پر اور بی جے پی کو تقریباً 22 سیٹوں پر اپوزیشن کا سامنا ہے۔ یہی نہیں، 6 اسمبلی حلقوں میں بی جے پی لیڈروں نے کھلم کھلا بغاوت کر کے دوسری پارٹیوں سے الیکشن لڑنے کے لیے ٹکٹ لے لیے ہیں، جب کہ کانگریس میں 5 لیڈران بغاوت کر کے انتخابی میدان میں اترے ہیں۔ 2018 کے انتخابات میں بی جے پی نے 59 ایم ایل اے کے ٹکٹ منسوخ کر دیے تھے۔ ان سیٹوں پر 28 نئے امیدوار کامیاب ہوئے تھے جبکہ 30 سیٹیں کانگریس کے حصے میں آئی تھیں۔ بی ایس پی ایک پر جیتی تھی۔

خیال رہے کہ 230 رکنی مدھیہ پردیش اسمبلی کے لیے نامزدگی 21 اکتوبر سے 30 اکتوبر تک بھرے جانے ہیں۔ فارم کی واپسی 2 نومبر تک ہوگی۔ ووٹنگ 17 نومبر کو ہوگی اور ووٹوں کی گنتی 3 دسمبر کو ہوگی۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined