قومی خبریں

بی جے پی لیڈر کی بیٹی کی مسلم نوجوان کے ساتھ ہونے والی شادی منسوخ، احتجاج کے بعد دونوں فریقوں نے لیا فیصلہ

اتراکھنڈ کی پوڑی میونسپلٹی کے چیئرمین اور بی جے پی لیڈر یشپال کی بیٹی کی شادی امیٹھی کے مونس سے ہونی تھی لیکن مخالفت کو دیکھتے ہوئے دونوں فریقین نے مل کر شادی منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا

شادی، علامتی تصویر آئی اے این ایس
شادی، علامتی تصویر آئی اے این ایس 

نئی دہلی: بی جے پی لیڈر اور پوڑی میونسپلٹی کے چیئرمین یشپال بینام کی بیٹی کی شادی 28 مئی کو ایک مسلم نوجوان کے ساتھ ہونی تھی جسے منسوخ کر دیا گیا ہے۔ سابق ایم ایل اے نے کہا کہ بیٹی کی خوشی کے لیے انہوں نے مسلم نوجوان سے شادی کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی لیکن سوشل میڈیا اور مقامی سطح پر آنے والے ردعمل کو دیکھتے ہوئے فی الحال شادی کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔

Published: undefined

بی جے پی لیڈر نے کہا کہ جو ماحول بنایا گیا ہے اسے دیکھتے ہوئے دونوں خاندانوں نے مل بیٹھ کر فیصلہ کیا ہے کہ عوامی نمائندہ ہونے کے ناطے پولیس کے سائے میں شادی کرانا مناسب نہیں ہے۔ دونوں خاندانوں نے فیصلہ کیا ہے کہ آئندہ 26، 27 اور 28 کو شادی کی تقریبات منعقد نہیں کی جائیں۔ وہیں، مونس کے والد رئیس نے 28 مئی کو ہونے والے شادی کے پروگرام کو منسوخ کرنے کی کوئی وجہ نہیں بتائی ہے۔

Published: undefined

خیال رہے کہ یشپال بینام کی بیٹی مونیکا اور اتر پردیش کے امیٹھی کے رہنے والے محمد مونس کی شادی کا کارڈ سوشل میڈیا پر وائرل ہوا تھا۔ جس کے بعد ہندو تنظیموں وی ایچ پی، بجرنگ دل نے جمعہ کو پوڑی کے کوٹ دوار میں اس شادی کے خلاف احتجاج کیا۔ انہوں نے بینام کا پتلا بھی نذر آتش کیا۔

Published: undefined

وشو ہندو پریشد کے پوڑی کے ضلعی صدر دیپک گوڑ نے اس طرح کی شادی کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا ’’بینام کی بیٹی یا تو اسلام قبول کر لے یا اس کے ہونے والے داماد کو ہندو مذہب قبول کر لینا چاہیے۔‘‘ اس سے قبل یشپال شادی کی تقریب پوڑی کے کنڈولیا میدان میں منعقد کرنا چاہتے تھے لیکن ویاپار منڈل کی مخالفت کے بعد شہر سے تقریباً 6 کلومیٹر دور گھڑدوڑی انجینئرنگ کالج کے قریب ویڈنگ پوائنٹ پر شادی کا اہتمام طے کیا گیا۔ رسم و رواج کے ساتھ شادی کرنے کے لیے کارڈ بھی پرنٹ کرایا گیا، تاہم 28 مئی کو طے شدہ شادی کا یہ پروگرام منسوخ کر دیا گیا ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined