
ممبئی: سابق وزیراعلیٰ پرتھوی راج چوہان نے ایک پریس کانفرنس میں ریاستی حکومت پر اپوزیشن کو ختم کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کی بی جے پی حکومت سام دام دنڈ بھید کا استعمال کرکے اپوزیشن کو ختم کرنا چاہتی ہے تاکہ وہ ریاست میں مطلق العنانی کرسکیں۔ یہ جمہوریت کے لئے انتہائی خطرناک ہے۔
Published: undefined
پرتھوی راج چوہان نے اس موقع پر ملک وریاست کی معاشی صورت حال کا بھی تذکرہ کیا اور کہا کہ ہرمحاظ پر ناکام حکومت عوام کو گمراہ کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آٹو موبائیل سیکٹر پوری طرح تباہی کے دہانے پر پہونچ چکا ہے اور اس انڈسٹری سے وابستہ لاکھوں لوگوں پر بیروزگاری کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ گزشتہ سہ ماہی میں جی ڈی پی ۵ فیصد تک نیچے آچکی ہے جو گزشتہ ۶ سال میں سب سے کم ہے۔
Published: undefined
انہوں نے کہا کہ ملک میں سرمایہ کاری کی صورت حال انتہائی تشویشناک حد تک کم ہوا ہے اور سود کی شرح میں کمی کا بھی اس پر کوئی اثر نہیں ہورہا ہے۔ اس معاشی مندی کا سب سے زیادہ اثر صنعتی سیکٹر پر ہوا ہے اور پہلے سہ ماہی میں اس سیکٹر میں صرف صفر اعشاریہ ۶ فیصد کا ہی اضافہ درج کیا گیا ہے۔ بنیادی ضروریات کی اشیاءکے پروڈکشن اگست مہینے میں ۲اعشاریہ۱فیصد درج کیا گیا ہے جبکہ یہ گزشتہ سال ۷ اعشاریہ ۳ فیصد تھا۔
Published: undefined
انہوں نے بینکوں کی تعداد کم کرنے پر بھی سوالیہ نشان لگایا اور کہا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ دو کمزور بینکوں کو ایک ساتھ جوڑ دینے سے ان بینکوں کی حالت بہتر ہوجائے گی۔ پرتھوی راج چوہان نے بینکوں کے گھوٹالوں کا بھی ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ جب سے ملک میں بی جے پی کی حکومت قائم ہوئی ہے، بینکوں کے گھوٹالے بڑھتے جارہے ہیں۔ 2014میں بینکوں کا گھوٹالہ 10171کروڑ تھا جو2015میں 19455کروڑ ہوگیا، 2016میں اس گھوٹالے میں ایک ہزار کروڑ روپئے کی کمی ہوئی اور 18699کروڑ تھا۔ لیکن 2017میں یہ بڑھ کر 23934کروڑ روپئے ہوا، 2018میں 41167کروڑ ہوا جو رواں سال میں ابھی تک 71543کروڑ روپئے تک ہوچکا ہے۔
Published: undefined
اس پریس کانفرنس میں پرتھوی راج چوہان نے کانگریس چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہونے والوں پر بھی تنقید کی اور کہا کہ جو بی جے پی میں شامل ہورہے ہیں، ان سے پوچھنا چاہئے کہ ان کے سامنے ایسی کیا مجبوری تھی کہ انہوں نے اپنے نظریات سے بالکل برعکس پارٹی میں شمولیت اختیار کررہے ہیں۔ ونچت بہوجن اگھاڑی سے اتحاد کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ ونچت نے اتحادکے لئے ہمارے سامنے جو شرائط رکھی ہیں، اس سے اتحاد ممکن نظر نہیں آتا۔
Published: undefined
انہوں نے کہا کہ ونچت کی شرط ہے کہ وہ کانگریس سے اسی صورت میں اتحادکرے گی کہ کانگریس این سی پی سے اتحادنہ کرے۔ یہ مناسب شرط نہیں ہے اور ہم این سی پی کو علاحدہ نہیں رکھ سکتے۔اگر ونچت کو ہمارے ہی ساتھ اتحاد کرنا ہے تو اس کے لئے دیگر متبادل تلاش کیا جاسکتا ہے۔ این سی پی سے اتحاد کے بارے میں انہوں نے بتایاکہ سیٹوں کے درمیان ہمارے درمیان 235سیٹوں پر سمجھوتہ ہوچکا ہے، 41سیٹیں ہم نے اتحاد کے چھوڑی ہیں، جس میں سماج وادی پارٹی شیتکری کامگار پارٹی ودیگر پارٹیاں شامل ہیں۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined