
پون کھیڑا، ویڈیو گریب
کانگریس کے میڈیا ڈپارٹمنٹ چیف پون کھیڑا نے بی جے پی کو ایک بار پھر ہدف تنقید بنایا ہے۔ انھوں نے آبکاری پالیسی سے متعلق مبینہ گھوٹالہ معاملہ میں سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال اور کئی دیگر کو بری کیے جانے کے بعد جمعہ کے روز دعویٰ کیا کہ گجرات و پنجاب کے اسمبلی انتخابات کے مدنظر عآپ میں بی جے پی کے ’سہولت آمیز ساتھیوں‘ کے خلاف کارروائی ٹھنڈی پڑ جائے گی۔
Published: undefined
پون کھیڑا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اس بارے میں ایک پوسٹ جاری کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ بی جے پی ایک ’اِچھادھاری ناگ‘ ہے، جو صرف کانگریس کو شکست دینے کے لیے اپنی شکل بدلتی رہتی ہے، اور اس کے لیے وہ کسی بھی سطح تک گر سکتی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’’بی جے پی کا ایک ہی جنوبی ہدف ہے: کانگریس کو شکست دینا اور کانگریس سے پاک ہندوستان بنانا۔ اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے وہ کسی بھی سطح تک گر سکتی ہے۔‘‘
Published: undefined
اس پوسٹ میں پون کھیڑا نے کہا ہے کہ 12 سالوں تک بی جے پی نے ترنمول کانگریس کے خلاف زہر افشانی کی۔ اور اب؟ نریندر مودی خود اس کی تعریف کر رہے ہیں، وہ بھی عزت کرتے ہوئے نہیں، بلکہ کانگریس پر حملہ کرنے کے لیے۔ وہ آگے لکھتے ہیں کہ ’’انتخابات آ رہے ہیں، اس لیے اسکرپٹ بھی بالکل امید کے مطابق ہے۔ کانگریس لیڈران کے خلاف معاملوں میں اچانک تیزی آئے گی۔‘‘ انھوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ ’’پی چدمبرم جی کو پھر سے سرخیوں میں گھسیٹا جا رہا ہے، کیونکہ تمل ناڈو میں انتخابات ہونے والے ہیں۔ دوسری طرف ان کے عآپ میں ’سہولت آمیز ساتھیوں‘ اور دیگر لوگوں کے خلاف چل رہی کارروائیاں گجرات و پنجاب انتخابات کے مدنظر چپ چاپ ٹھنڈی پڑ جائیں گی۔‘‘
Published: undefined
بی جے پی پر حملہ آور رخ اختیار کرتے ہوئے کانگریس لیڈر نے کہا ہے کہ ’’بی جے پی کا اصلی کھیل یہی ہے، یعنی بدلہ کو حکومت بنانا اور جانچ ایجنسیوں کو انتخابی اوزار کی طرح استعمال کرنا۔‘‘ پون کھیڑا کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب دہلی کی ایک عدالت نے مبینہ آبکاری پالیسی گھوٹالہ سے منسلک بدعنوانی کے معاملہ میں سی بی آئی کے ذریعہ داخل فرد جرم کا نوٹس لینے سے انکار کر دیا۔ عدالت نے دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال اور سابق نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا کو اس معاملہ میں بری الذمہ قرار دیا۔ اسپیشل جج جتیندر سنگھ نے کہا کہ فرد جرم میں کئی ایسی خامیاں ہیں، جن کا ثبوتوں سے تال میل نہیں ہے۔ اس کے ساتھ ہی انھوں نے اس معاملہ میں عآپ کے دونوں سرکردہ لیڈران کے علاوہ 21 دیگر ملزمین کو بھی بری کر دیا۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined
تصویر سوشل میڈیا
تصویر پریس ریلیز