
کپل سبل / آئی اے این ایس
مغربی بنگال میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی کارروائی کو لے کر سیاست گرما گئی ہے۔ اسی دوران ای ڈی کی کارروائی کے متعلق راجیہ سبھا رکن اور سینئر وکیل کپل سبل نے مرکزی حکومت پر جم کر حملہ بولا ہے۔ پریس کانفرنس کے دوران کپل سبل نے کہا کہ آج انہیں 2004 سے 2014 تک یو پی اے حکومت کے دور کی یاد آ گئی۔ آج جس طرح اخبارات میں خبریں شائع ہو رہی ہیں، ویسی ہم نے ان 10 سالوں میں نہیں دیکھی تھیں، کیونکہ ہم نے ای ڈی کو اتنی کھلی چھوٹ نہیں دی تھی۔
Published: undefined
کپل سبل نے کہا کہ اُس دوران کسی بھی سیاسی پارٹی یا لیڈر کے خلاف جھوٹی معلومات کی بنیاد پر مقدمہ نہیں چلایا تھا۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ جب انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کا قیام عمل میں آیا تھا، تب یہ نہیں معلوم تھا کہ اسے ایک ایسی ہمہ گیر پراسیکیوشن ایجنسی بنا دیا جائے گا جو ہندوستان میں کہیں بھی، کبھی بھی جا سکتی ہے اور پورے وفاقی ڈھانچے پر اس طرح سے حملہ کر سکتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بی جے پی اپوزیشن لیڈران کو ہراساں کرنے کے لیے ای ڈی کا استعمال کر رہی ہے۔
Published: undefined
راجیہ سبھا رکن کپل سبل نے کہا کہ انتخاب آتے ہی تحقیقاتی ایجنسیوں کو اچانک دستاویزات کی یاد آ جاتی ہے۔ سبل نے مغربی بنگال میں ای ڈی کی کارروائی کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ مغربی بنگال جہاں بی جے پی انتخاب نہیں جیت سکتی وہاں ممتا بنرجی اور ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کو پریشان کرنے کے لیے ای ڈی کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے سوال اٹھایا کہ کوئی بھی تحقیقاتی ایجنسی کسی دفتر میں جا کر تمام فائلیں کیسے لے جا سکتی ہے۔ اگر کوئلہ گھوٹالے کی تحقیقات کرنی ہے تو اس سے متعلق فائلیں لیں، لیکن ہر ایک فائل لے جانا کس اختیار میں ہے؟ کسی بھی تحقیقاتی ایجنسی کو ایسا کرنے کا حق نہیں ہے۔
Published: undefined
کپل سبل نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں کہیں بھی ایف آئی آر درج ہوتے ہی ای ڈی وہاں پہنچ جاتی ہے۔ ای ڈی صرف انتخاب کے وقت ہی ایسی ریاستوں میں پہنچتی ہے۔ بی جے پی جان بوجھ کر ای ڈی کو ریاست اور مرکزی حکومت کے درمیان تنازعہ پیدا کرنے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ بی جے پی کی ای ڈی کا مقصد قانون نافذ کرنا نہیں ہے بلکہ اپوزیشن لیڈران کو ڈرانا اور پریشان کرنا ہے۔ وہ تصادم کی صورتحال پیدا کرنا چاہتے ہیں جو کہ سراسر غلط ہے۔
Published: undefined
کپل سبل کا یہ بھی کہنا ہے کہ کوئلہ گھوٹالہ کوئی نیا معاملہ نہیں ہے، یہ کئی سالوں سے چلا آ رہا ہے، تو پھر اچانک کارروائی کیوں؟ آخر حکومت مغربی بنگال میں جیت حاصل کرنے کے لیے کس حد تک جائے گی۔ یو پی اے کے دور میں کبھی ایسا نہیں ہوا تھا، لیکن بی جے پی جیتنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتی ہے۔ انتخاب کو انتخاب کی طرح ہی لڑا جانا چاہیے۔ بی جے پی کا یہ رویہ غلط ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined