
نئی دہلی: لوک سبھا الیکشن 2019 کے بعد پہلی مرتبہ ہونے والے مہاراشٹر اور ہریانہ اسمبلی انتخابات سمیت ضمنی انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اپنے اتحادیوں کے ساتھ مہاراشٹر میں اقتدار پر قابض ہوگئی ہے لیکن ہریانہ میں وہ سب سے بڑی پارٹی کے طور پر ابھرنے کے باوجود اکثریت سے پیچھے رہ گئی ہے۔
الیکشن کمیشن سے شام چھ بجے تک موصولہ اطلاعات کے مطابق مہاراشٹر اسمبلی کی 288 سیٹوں میں سے اب تک 160 سیٹوں کے نتائج آ چکے ہیں جن میں سے بی جے پی اتحاد92 سیٹیں جیت چکی ہے اور 67 سیٹوں پر اس کے امیدوار آگے چل رہے ہیں۔ بی جے پی نے اور شیوسینا نے 39 سیٹیں جیتی ہیں اور اس طرح مجموعی وہ طور پر نتائج اور رجحانات کے مطابق اکثریت کے اعداد وشمار کو پار کر چکے ہیں۔
اپوزیشن کانگریس اورنیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے اتحاد کو اب تک 53 سیٹیں ملی ہیں اور 47 سیٹوں پر ان کےا میدوار آگے ہیں۔ کانگریس 24 سیٹوں پر جیت درج کرچکی ہے اور اس کے امیدوار 22 سیٹوں پر آگے ہیں۔ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کو 29 سیٹیں ملی ہیں اور اس کے امیداواروں کو 25 سیٹوں پر سبقت حاصل ہے۔ اس طرح نتائج اور رجحانات کے مطابق اپوزیشن اتحاد کو 96 سیٹیں ملتی نظر آرہی ہیں۔ آزاد امیدواروں کو 8 ، آل انڈیا مجلس اتحاد المسلین اورسماج وادی پارٹی کو دو دوسیٹیں ملی ہیں۔
ہریانہ میں 90 سیٹوں میں 73 کے نتائج آ چکے ہیں جن میں سے بی جے پی کو 31 سیٹیں ملی ہیں اور 9 سیٹوں پراس کے امیدوار آگے چل رہے ہیں۔ اس طرح وہ ابھی تک سب سے بڑی پارٹی کے طور پر ابھری ہے لیکن اکثریت کے اعدادوشمار سے 6 عدد دور ہے۔ کانگریس نے 24 سیٹیں جیتی ہیں اورا س کے امیدواروں کو 7 سیٹوں پر سبقت حاصل ہے۔ جن نائک جنتاپارٹی (جے جے پی)کو 10 سیٹیں ملی ہیں۔ اسمبلی میں کسی بھی پارٹی کو واضح اکثریت ملنے کی امید کم ہے لہٰذا جوڑ توڑ کی بازارِ سیاست میں سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ آزاد امیدواروں نے 6 سیٹیوں پر جیت درج کی ہیں اور انھیں ایک سیٹ پر سبقت حاصل ہے۔ ہریانہ لوک ہِت پارٹی اور انڈین نیشنل لوک دل کو ایک ایک سیٹیں ملی ہیں۔
17 ریاستوں کی اسمبلی سیٹوں میں اب تک 44 کے نتائج آچکے ہیں۔ ان میں سے بی جے پی کو 12، کانگریس کو 9، آر جے ڈی، ایس پی، اے آئی اے ڈی ایم کے اور سی پی آئی ایم کو دو دو، جے ڈی یو، ٹی آر ایس ، بی جے ڈی اور شرومنی اکالی دل کو ایک ایک سیٹ پر فتح حاصل ہوئی ہے۔ بہار کی سمستی پور لوک سبھا سیٹ کےضمنی الیکشن میں لوک جن شکتی پارٹی فاتح رہی ہے جبکہ مہاراشٹر کے ستارہ میں نیشنلسٹ کانگریس پارٹی سبقت بنائے ہوئے ہے۔ ہریانہ میں کانگریس کی حالت مستحکم ہوئی ہے۔ جن نائک پارٹی نے 10 سیٹیں جیت کر شاندار موجودگی درج کروائی ہے لیکن انڈین نیشنل لوک دل کا مظاہرہ مایوس کن رہا ہے۔
وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر کرنال اور کابینی وزیر انل وج کینٹ سیٹ سے جیت درج کرچکے ہیں۔ پنچکُلا سے بی جے پی کے چیف وہپ گیان چند گپتا الیکشن جیت گئے لیکن بی جے پی کے سینیئر رہنماؤں میں شامل وزیرخزانہ کیپٹن ابھیمنیو (نارنوند)، وزیر زراعت اوم پرکاش دھن کڑ(بادلی)، وزیر نقل وحمل(ٹرانسپورٹ)لال کرشن لال پنوار(اسرانہ)، اشیائے خوردنی اور فراہمی (سپلائی)کے وزیر کرن دیو کمبوج (رادور)، اربن باڈیز کی وزیر کویتا جین (سونی پت)، کوآپریٹور وزیر منیش گروور(روہتک)، پسماندہ طبقے کی فلاح وبہبود کے وزیر کرشن کمار بیدی (شاہ آباد)، پہلوان یوگیشور دت(برودا)، ببیتا فوگاٹ (دادری) اور ٹک ٹاک گرل سونالی فوگاٹ (آدم پور) سے الیکشن ہار گئے ہیں۔
سابق ویز اعلیٰ بھوپیندر سنگھ ہڈا گڑھی سانپلا کِلوئی سے، کلیدپ سنگھ بشنوئی آدم پور سے اور توشام سے کرن سنگھ چودھری نے جیت درج کی ہے۔ ان کے علاوہ آنند سنگھ ڈانگی مَہم سے ، آئی این ایل ڈی سے کانگریس میں آنے والے اشوک آروڑہ تھانیسر سے الیکشن ہار گئے۔
کانگریس کے سینیئر رہنما اور میڈیا انچارج رندیپ سنگھ سرجے والا کیتھل سے الیکشن ہار گئے۔ انھیں بی جے پی کے رہنما لیلا رام نے شکست دی ہے۔ مسٹرسرجے والا حال ہی میں جیند سیٹ سے ضمنی الیکشن بھی ہار گئے تھے۔ جے جے پی کی امیدوار نینا چوٹالا نے باٹھڑھا سے الیکشن جیت لیا ہے۔
رجحانات پر اگر غور کریں تو ان میں کانگریس نے غیرمتوقع طور پر ریاست کی سیاست میں واپسی کی ہے۔ اسے 16 سیٹوں کا فائدہ ہوتا نظر آرہا ہے۔ سنہ 2014 کے اسمبلی الیکشن میں کانگریس کو 15 سیٹیں ملی تھیں اوربعد ازاں ہریانہ جن ہِت کانگریس کا کانگریس میں انضمام ہوجانے کے بعد اس کے مزید دو اراکین ساتھ اسمبلی میں کانگریس کے اراکین کی تعداد بڑھ کر 17 ہوگئی تھی۔ جے جےپی نے ریاست میں تیسری بڑی پارٹی کے طور پر دستک دی ہے اور ایسے میں حتمی نتائج آنے اور حالات سہہ رخی ہونے پر کنگ میکر بننےاور اقتدار کی چابی اس کے ہاتھ میں جاتی نظر آرہی ہے۔
اس الیکشن میں سب سے زیادہ نقصان آئی این ایل ڈی کو ہوا ہے اور اسے اب تک محض ایک ہی سیٹ ملی ہے۔ آئی این ایل ڈی نے سنہ 2014 کے انتخابات میں 19 سیٹیں حاصل کی تھیں اور اہم اپوزیشن پارٹی کے ناطے اس کے سینیئر رہنما ابھے چوٹالا کو اپوزیشن رہنما کا درجہ ملا تھا۔ لیکن موجودہ اسمبلی کی مدت کار ختم ہونے تک یہ دو حصوں میں تقسیم ہو گئی اورجے جے پی کا جنم ہوا۔ آئی این ایل ڈی میں انتشار اور بکھراؤ کی وجہ سے اس کے زیادہ تر اراکین اسمبلی اور رہنما انتخابات سے قبل ہی الوداع کہہ کر بی جے پی ،کانگریس اور جے جے پی کا دامن تھام چکے تھے۔
بی جے پی نے اس الیکشن میں’ 75 سیٹ پار‘ کا نعرہ دیا تھا جو فی الحال منھ کی کھاتا نظر آرہا ہے۔ اسمبلی انتخابات میں وزیراعظم نریندر مودی کا طلسم بھی ٹوٹتا نظر آرہا ہے۔ رجحانات میں پارٹی اکثریت کے 46 سیٹوں کے اعدادو شمار سے ابھی بھی پیچھے ہے۔
موجودہ اسمبلی میں اس کے 47 اراکین اسمبلی ہیں۔ بی جے پی نے حال ہی میں ریاست میں ہونے والے لوک سبھا انتخابات میں واضح جیت درج کرتے ہوئے تمام دس سیٹوں پر قبضہ جما لیا تھا۔ ریاست میں وزیراعظم نریندر مودی ، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ، وزیر دفاع راجنا تھا سنگھ اور پارٹی کے کارگزار صدر جے پی نڈا جیسے اہم رہناؤں نے تشہیر کی تھی۔ اس دوران پارٹی ہائی کمان نے رجحانات کے پیش نظر مستقبل کی حکمت عملی تیار کرنے کے لیے وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر کو دہلی بلایا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔