
تصویر سوشل میڈیا
راشٹریہ لوک مورچہ (آر ایل ایم) کے صدر اوپیندر کشواہا کے بیٹے دیپک پرکاش کا وزارتی عہدہ جانا تقریباً طے ہو گیا ہے۔ کیونکہ قانون ساز کونسل کی 10 سیٹوں کے لیے کاغذات نامزدگی داخل کرنے کی آخری تاریخ آج ہے۔ ان کو این ڈی اے نے اپنا امیدوار نہیں بنایا ہے اور وہ فی الحال کسی بھی ایوان کے رکن نہیں ہیں۔ اس پر کانگریس نے بی جے پی کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ ہندی نیوز پورٹل ’دینک بھاسکر‘ پر شائع خبر کے مطابق بہار کانگریس کے ترجمان اسیت ناتھ تیواری نے کہا کہ ’’بی جے پی نے دیپک کا پرکاش بجھا دیا ہے۔ سمراٹ چودھری کے سامنے کسی دوسرے کشواہا چہرے کو بی جے پی ابھرنے نہیں دے گی۔‘‘
Published: undefined
اسیت ناتھ تیواری نے مزید کہا کہ ’’یہ بی جے پی کی سیاست کا حصہ ہے۔ اب کسی بھی کشواہا چہرے کو بی جے پی میں آگے بڑھنے نہیں دیا جائے گا۔ کشواہا لیڈران کو چھوٹی چھوٹی جگہوں تک ہی محدود کر کے رکھا جائے گا۔‘‘ ان کے مطابق بی جے پی ذات پر مبنی سیاست کرتی ہے۔ جب بی جے پی کے پاس کشواہا سماج سے ایک چہرہ وزیر اعلیٰ کے طور پر آ گیا ہے تو کسی اور کشواہا کو کیسے ابھرنے دے گی۔
Published: undefined
کانگریس کے ترجمان اسیت ناتھ تیوری کے مطابق اپیندر کشواہا کی سیاسی شبیہ ہمیشہ اقتدار کے ساتھ بنے رہنے کی ہے۔ وہ ہر حال میں این ڈی اے میں بنے رہنا چاہیں گے۔ وہ یہی چاہیں گے کہ مستقبل میں بیٹے کے لیے بھی جگہ بن جائے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’ایک نتیانند رائے کو آگے بڑھانے کے لیے بی جے پی کے کتنے یادو لیڈران کی سیاست ختم کر دی گئی۔ ایک منگل پانڈے کے تحفظ کے لیے بی جے پی نے کتنے براہمن لیڈران کی سیاست ختم کر دی۔ جبکہ وجے سنہا کی سیاست کو ختم کرنے کی کوشش چل رہی ہے۔‘‘
Published: undefined
دوسری جانب بہار حکومت کے پنچایتی راج کے وزیر دیپک پرکاش کی دوبارہ تقرری کو چیلنج کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں مفاد عامہ کی عرضی داخل کی گئی ہے۔ عرضی میں نمایاں طور پر یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ کوئی شخص جو بہار کے کسی بھی ایوان کا ممبر نہیں ہے، کیا آئین کی دفعہ 164(4) کے تحت دی گئی 6 ماہ کی مدت ختم ہونے کے بعد دوبارہ وزارت کے عہدے پر اس کا تقرر کیا جا سکتا ہے؟
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined