
ادھوٹھاکرے / تصویر: ’ایکس‘ ShivSenaUBT@
مہاراشٹرمیں بلدیاتی انتخابات کے نتائج پر شروع ہوا سیاسی ہنگامہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ ممبئی میں ریتو تاوڑے کے میئر بننے کے بعد شیوسینا (یوٹی بی) لگاتاربی جے پی پرحملہ آور ہے۔ پارٹی کے ترجمان ’سامنا‘ کے اداریہ میں اس بار بی جے پی، شندے گروپ اور انحراف کی سیاست پرسوال اٹھائے گئے ہیں۔ اداریئے میں اقتدار، پیسے اور اخلاقیات کو براہ راست نشانہ بنایا گیا ہے۔
Published: undefined
بلدیاتی انتخابات مکمل ہونے کے بعد ’سامنا‘ نے لکھا کہ منتظمین کی من مانی حکمرانی ختم ہو کر عوامی نمائندوں کی حکمرانی آئی ہے، بشرطیکہ وزیراعلیٰ چاہیں، بی جے پی کے 11 میں سے 10 میئر بننے پر طنز کستے ہوئے کہا گیا ہے کہ طاقت، پیسہ اور پولیس ہوتو بی جے پی چاند اور مریخ پر بھی میئر بناسکتی ہے۔
Published: undefined
اداریئے کے مطابق بی جے پی چاند اورمریخ پر اپنا میئر بنا سکتی ہے اور ڈھول ٹیٹ سکتی ہے کہ ’دیکھو، ہم نے چاند اور مریخ پر ہندو-مراٹھی میئر بٹھائے ہیں!‘۔ بی جے پی ممبئی میں مراٹھی شناخت کے دباؤ میں ریتو تاوڑے کو منتخب کرنے پر مجبور ہوئی۔ شیوسینا تحریک کا اثربتاتے ہوئے اسے مراٹھی شناخت کی جیت قرار دیا گیا۔
Published: undefined
مضمون کے مطابق بی جے پی نے ریتو تاوڑے کو ممبئی کا میئر منتخب کیا۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ بی جے پی کو یہ ماننا پڑا کہ ممبئی کا مراٹھی... ہندو ہی ہے۔ شیوسینا نے مراٹھی شناخت کے معاملے پر جنگ چھیڑ دی، اس لیے بی جے پی کو اپنی مرضی کے خلاف ہی سہی، میئر کے عہدے کے لیے مراٹھی چہرے کا انتخاب کرنا پڑا۔ اس کا کریڈٹ شیو سینا کو جاتا ہے۔
Published: undefined
اداریہ میں بنگلہ دیشیوں سے متعلق ریتو تاوڑے کے بیان پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ ’سامنا‘ نے سوال کیا کہ کیا وزیراعظم اس موقف سے متفق ہیں؟ تحریر میں بنگلہ دیش کو دی جانے والی اقتصادی امداد اور وہاں کے ہندوؤں پر حملوں کو متضاد قرار دیا گیا ہے۔ میرا بھائیندر میں مراٹھی میئر بنائے جانے کو مراٹھی لوگوں کو نظر انداز کرنے کے مترادف قرار دیا گیا۔ ناسک اور کلیان ڈومبیوالی میں انحراف کو اخلاقی گراوٹ کی مثال کے طور پر پیش کیا گیا۔
Published: undefined
اداریہ میں انحراف کی سیاست پر سخت الفاظ میں لکھا گیا کہ انتخابی نشان کی سیاہی سوکھنے سے پہلے ہی ایم ایل اور کونسلر پارٹی بدل رہے ہیں۔ ایم این ایس اور شیوسینا کے ساتھ منتخب کئے گئے نمائندوں کے شندے گروپ میں جانے کو غداری بتایا گیا۔ مالیگاؤں میں اے آئی ایم آئی ایم کے ساتھ اتحاد کی کوشش پر بھی سوال اٹھائے گئے۔ اداریے کے مطابق اقتدار کے لیے ہندوتوا اور اصولوں سے سمجھوتہ کیا جا رہا ہے۔
Published: undefined
’سامنا‘ نے الزام لگایا کہ ٹھیکے، فنڈ اور کمیٹیوں کی لالچ میں عوامی نمائندے عام لوگوں کے ووٹ سے دھوکہ دے رہے ہیں۔ مہاراشٹر کا خزانہ خالی ہونے کے باوجود چھوٹے انتخابات پر کروڑوں روپے خرچ کئے جارہے ہیں۔ سرکاری فنڈ کی امتیازی تقسیم کو غیر جمہوری بتایا گیا۔ اداریہ کا اختتام یہ کہتے ہوئے ہوا کہ مہاراشٹر کا سیاسی کلچر بہت زیادہ بگڑ چکا ہے اور اس کے لیے حکمران جماعت ذمہ دار ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined