
آئی اے این ایس
پٹنہ: بہار کی راجدھانی پٹنہ میں معروف استاد خان سر کے کوچنگ ادارے پر حملے اور توڑ پھوڑ کے واقعے کے بعد ریاستی حکومت نے کوچنگ اداروں کے لیے ایک جامع پالیسی بنانے کا اعلان کیا ہے۔ بہار کے وزیر تعلیم متھلیش تیواری نے بدھ کے روز کہا کہ حکومت آئندہ تین ماہ کے اندر ایسی پالیسی تیار کرے گی جس کے ذریعے کوچنگ اداروں کی سرگرمیوں کو منظم کیا جا سکے اور باہمی رقابت کے نتیجے میں نظم و نسق کی صورت حال متاثر ہونے سے روکا جا سکے۔
Published: undefined
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے متھلیش تیواری نے کہا کہ خان سر کے کوچنگ ادارے پر حملے کے واقعے کی غیر جانبدارانہ اور مکمل جانچ ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مختلف کوچنگ ادارے آپسی مقابلے کی وجہ سے ایسے حالات پیدا کرتے ہیں جن سے امن و امان کے مسائل جنم لیں، تو حکومت اس پر خاموش نہیں رہ سکتی۔ اسی مقصد کے تحت کوچنگ اداروں کے لیے واضح اصول و ضوابط پر مبنی پالیسی تیار کی جائے گی۔
Published: undefined
وزیر تعلیم نے کہا کہ نئی پالیسی کے تحت کوچنگ اداروں کی ذمہ داریاں اور حدود متعین کی جائیں گی۔ پالیسی نافذ ہونے کے بعد اس کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی بھی کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ پالیسی تیار کرنے سے قبل تمام متعلقہ فریقوں سے مشاورت کی جائے گی تاکہ ایسا نظام بنایا جا سکے جو عملی اور مؤثر ہو۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ریاست میں اساتذہ کے تبادلوں کے حوالے سے بھی ایک نئی پالیسی پر غور کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق حکومت عوام اور متعلقہ حلقوں کی رائے حاصل کیے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کرے گی اور تمام تجاویز کو مدنظر رکھتے ہوئے حتمی پالیسی مرتب کی جائے گی۔
Published: undefined
ادھر پٹنہ میں پیش آئے حالیہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔ خان گلوبل اسٹڈیز نامی کوچنگ ادارے میں توڑ پھوڑ اور سکیورٹی گارڈ کے ساتھ مارپیٹ کے معاملے میں قریب واقع گیان بندھو کوچنگ پر الزام عائد کیا گیا ہے۔ پولیس نے اس سلسلے میں گیان بندھو کوچنگ کے ڈائریکٹر روشن آنند سمیت تین افراد کو گرفتار کر لیا ہے اور ان سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔
پولیس کے مطابق منگل کی رات تقریباً 10 بج قدم کنواں تھانہ علاقے میں واقع خان گلوبل اسٹڈیز کوچنگ ادارے پر پتھراؤ اور توڑ پھوڑ کی اطلاع ملی تھی۔ اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچ گئی۔ ابتدائی جانچ، مقامی افراد سے پوچھ گچھ اور نگرانی کیمروں کی ریکارڈنگ کا جائزہ لینے کے بعد پولیس کو شبہ ہوا کہ گیان بندھو کوچنگ سے وابستہ 15 سے 20 افراد اس واقعے میں ملوث تھے۔ پولیس معاملے کی مزید تفتیش کر رہی ہے اور دیگر ملزمان کی تلاش بھی جاری ہے۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined