
کانگریس نے پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھگونت مان پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے لیے شری اکال تخت صاحب کے فیصلے کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کی۔ اس مقصد کے لیے مبینہ طور پر ایک فرضی فورنسک رپورٹ تیار کرانے کی سازش رچی گئی۔ کانگریس نے کہا کہ یہ عمل نہ صرف انتہائی قابل مذمت ہے بلکہ اس سے سکھ برادری کے جذبات کو بھی شدید ٹھیس پہنچی ہے۔
Published: undefined
دراصل معاملہ ایک متنازعہ ویڈیو کا ہے، جس میں وزیر اعلیٰ بھگونت مان مبینہ طور پر بھنڈراوالے کی تصویر پر پیشاب چھرکتے نظر آئے تھے۔ اس ویڈیو میں کچھ دیگر متنازعہ باتیں بھی کی گئی تھیں، جس پر شری اکال تخت نے اپنا سخت موقف ظاہر کیا تھا۔ شری اکال تخت کی کارروائی کے بعد بھگونت مان نے اس ویڈیو کو مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے تیار بتایا اور کہا کہ ان کے خلاف سازش ہو رہی ہے۔ تازہ ترین خبروں کے مطابق گروگرام پولیس نے ویڈیو کو مبینہ طور پر فرضی ثابت کرنے کے لیے تیار کی گئی فورنسک رپورٹ سے متعلق جانچ شروع کر دی ہے۔ پولیس نے اس معاملے میں ایف آئی آر درج کر 2 مشتبہ لوگوں کو حراست میں بھی لیا ہے۔ اس نئے انکشاف کے بعد ہی کانگریس نے وزیر اعلیٰ بھگونت مان کو ہدف تنقید بنایا ہے۔
Published: undefined
کانگریس نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ بھگونت مان حکومت نے 2 پولیس افسران کو ایک فورنسک ماہر کے پاس بھیجا تھا۔ پارٹی کے مطابق ان افسران نے فورنسک ماہر پر دباؤ ڈالا کہ وہ ایک ایسی رپورٹ تیار کرے جس میں بھگونت مان سے متعلق ایک ویڈیو کو مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعہ تیار کردہ ویڈیو قرار دیا جائے۔ کانگریس کا الزام ہے کہ اس مبینہ اقدام کا مقصد شری اکال تخت صاحب کے فیصلے کو مشکوک بنا کر اسے غلط ثابت کرنا اور اس کے ذریعہ سیاسی فائدہ حاصل کرنا تھا۔ پارٹی نے کہا کہ اگر یہ الزامات درست ہیں تو یہ مذہبی اداروں کے وقار کو نقصان پہنچانے اور عوامی اعتماد کو مجروح کرنے کی کوشش کے مترادف ہے۔
Published: undefined
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’بھگونت مان نے اپنے سیاسی مفادات کے لیے ایسی سازش رچی، تاکہ شری اکال تخت صاحب کے فیصلہ کو متنازع بنایا جا سکے۔ یہ انتہائی گرا ہوا عمل ہے جس سے سکھوں کے مذہبی جذبات مجروح ہوئے ہیں۔‘‘ کانگریس نے مزید کہا کہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ نے خود کو سیاسی طور پر برتر ثابت کرنے کے لیے شری اکال تخت صاحب جیسے اعلیٰ مذہبی ادارے کے خلاف سازشیں کرنا شروع کر دی ہیں اور اس کے وقار کا احترام بھی ملحوظ نہیں رکھا گیا۔ پارٹی کے مطابق ایسے اقدامات پنجاب کے عوام اور سکھ برادری کے لیے ناقابل قبول ہیں۔
Published: undefined
اپنے بیان میں کانگریس نے بھگونت مان پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے وزیر اعلیٰ کے عہدے پر برقرار رہنے کا ’اخلاقی حق‘ کھو دیا ہے۔ پارٹی نے مطالبہ کیا کہ بھگونت مان ان الزامات پر عوام کے سامنے وضاحت پیش کریں اور اپنی پوزیشن واضح کریں۔
Published: undefined
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined