قومی خبریں

کورونا سے پہلے ملک قدامت پسندی اور جارحانہ قوم پرستی کا شکار ہوا: حامد انصاری

حامد انصاری نے کہا کہ چار سالوں سے بھی کم عرصہ میں ملک نے ایک اعتدال پسند قوم سے روایتی قوم پرستی کے ایک ایسے سیاسی نظریہ تک کا سفر طے کر لیا جس نے سماج میں مضبوطی سے جڑیں جما لیں۔

ہندوستان کے سابق نائب صدر حامد انصاری / تصویر آئی اے این ایس
ہندوستان کے سابق نائب صدر حامد انصاری / تصویر آئی اے این ایس 

نئی دہلی: ہندوستان کے سابق نائب صدر حامد انصاری نے ملک کے موجودہ حالت پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج ملک ایسے نظریہ کی وجہ سے خطرے میں نظر آ رہا ہے، جو ملک کو ہم اور وہ کے غیر حقیقی زمروں کی بنیاد پر تقسیم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

Published: 21 Nov 2020, 11:42 AM IST

سابق نائب صدر حامد انصاری نے کہا کہ کورونا وبا کے بحران سے پہلے ہی ہندوستانی سماج دو دیگر وباؤں مذہبی قدامت پسندی اور جارحانہ قوم پرستی کا شکار ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا ان دنوں کے مقابلہ حب الوطنی زیادہ مثبت نظریہ ہے کیونکہ یہ عسکری اور ثافتی طور پر دفاعی ہے۔

Published: 21 Nov 2020, 11:42 AM IST

حامد انصاری نے یہ باتیں کانگریس رہنما ششی تھرور کی کتاب ’دی بیٹل آف بلانگنگ‘ کے ڈیجیٹل اجرا کے موقع پر کہیں۔ حامد انصاری نے کہا کہ چار سالوں سے بھی کم عرصہ میں ملک نے ایک اعتدال پسند قوم سے روایتی قوم پرستی کے ایک ایسے سیاسی نظریہ تک کا سفر طے کر لیا جس نے سماج میں مضبوطی سے جڑیں جما لیں۔

Published: 21 Nov 2020, 11:42 AM IST

کتاب کے اجرا کے موقع پر تبادلہ خیال کے لئے جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ نے بھی شرکت کی۔ انہوں نے اس موقع پر کہا کہ 1947 میں ہمارے پاس موقع تھا کہ ہم پاکستان کے ساتھ چلے جاتے لیکن میرے والد اور دیگران نے یہی سوچا تھا کہ دو قومی نظریہ ہمارے لئے مناسب نہیں ہیں۔ فاروق عبداللہ نے کہا موجودہ حکومت ملک کو جس طرح سے دیکھنا چاہتی ہے اس کو ہم تادم حیات قبول نہیں کرنے والے۔

Published: 21 Nov 2020, 11:42 AM IST

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: 21 Nov 2020, 11:42 AM IST