قومی خبریں

دہلی یونیورسٹی میں احتجاجی مظاہروں پر پابندی تاناشاہی اور طلبا مخالف: این ایس یو آئی

این ایس یو آئی صدر ورون چودھری نے کہا کہ امتیاز کے خلاف ضابطوں کے مطالبات اب ملک گیر طلبا تحریک کی شکل اختیار کر رہے ہیں، جس سے یونیورسٹی انتظامیہ بے چین ہو گئی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>ورون چودھری، صدر این ایس یو آئی </p></div>

ورون چودھری، صدر این ایس یو آئی

 

نئی دہلی: ’نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا‘ (این ایس یو آئی) نے دہلی یونیورسٹی میں احاطہ کے اندر احتجاجی مظاہروں پر عائد پابندی کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ این ایس یو آئی نے اس فیصلے کو ملک بھر کے محروم اور سماجی طور پر باخبر طلبا کی آواز دبانے کا آمرانہ قدم قرار دیا ہے۔ ایک بیان میں این ایس یو آئی کے قومی صدر ورون چودھری نے اس فیصلے کو ’مودی حکومت کی جانب سے یونیورسٹی احاطوں کی جمہوری روح کو کچلنے اور سماجی انصاف و یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کے ضابطوں کے منصفانہ نفاذ کا مطالبہ کر رہے درج فہرست ذات، درج فہرست قبائل و دیگر پسماندہ طبقات کے طلبا کی آواز دبانے کی منظم کوشش‘ قرار دیا۔

Published: undefined

ورون چودھری نے کہا کہ یہ پابندی آج تعلیمی اداروں کو کنٹرول کر رہی ’خطرناک ذہنیت‘ کو بے نقاب کرتی ہے، جہاں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) سے وابستہ تنظیموں کو کیمپس میں پروگرام منعقد کرنے کی کھلی اجازت ملتی ہے، جبکہ انتظامیہ کے فیصلوں کی مخالفت کرنے والی طلبا تنظیموں پر پابندی آمیز اور جابرانہ احکامات مسلط کر دیے جاتے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’’جب بھی طلبا ریزرویشن، مساوات اور سماجی انصاف کے مسائل پر انتظامیہ سے سوال کرتے ہیں تو انہیں خوفزدہ کیا جاتا ہے۔ یہ طلبا طاقت کے تئیں خوف اور برسر اقتدار نظام کی عدم تحفظ کو ظاہر کرتا ہے۔‘‘

Published: undefined

کاشی ہندو یونیورسٹی اور الٰہ آباد یونیورسٹی سمیت مختلف جامعات میں پیش آنے والے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے ورون چودھری نے کہا کہ امتیاز کے خلاف ضابطوں کے مطالبات اب ملک گیر طلبا تحریک کی شکل اختیار کر رہے ہیں، جس سے یونیورسٹی انتظامیہ بے چین ہو گئی ہے۔ این ایس یو آئی نے یہ بھی الزام لگایا کہ یہ پابندی نریندر مودی کی قیادت والی حکومت کے اس وسیع ایجنڈے کا حصہ ہے، جس کا مقصد آزاد خیالات کو کنٹرول کرنا، عوامی اداروں کو کمزور کرنا اور اختلاف رائے کی ہر آواز کو دبانا ہے۔

Published: undefined

جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’آئین ہمیں پُرامن احتجاج کا حق فراہم کرتا ہے۔ کوئی بھی منمانا انتظامی حکم ہمارے جمہوری حقوق کو ختم نہیں کر سکتا۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب جب طلبا کی آواز دبانے کی کوشش کی گئی ہے، تب تب طلبا اور زیادہ مضبوطی سے کھڑے ہوئے ہیں۔‘‘ این ایس یو آئی نے دہلی یونیورسٹی اور ملک بھر کے طلبا کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ یونیورسٹی احاطہ میں جمہوری اظہار کو روکنے کی کوئی بھی کوشش طلبا مزاحمت کو مزید مضبوط کرے گی۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined