
ایف آئی آر / آئی اے این ایس
کرناٹک کے بیلاری میں برسراقتدار کانگریس اور بی جے پی اراکین اسمبلی کے حامیوں کے درمیان ہوئے تشدد نے سیاست میں گرمی پیدا کر دی ہے۔ بینر لگانے کے معاملہ پر شروع ہوئے تصادم کے بعد بی جے پی رکن اسمبلی جناردھن ریڈی سمیت 11 لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ اس درمیان ریاست کے وزیر داخلہ جی. پرمیشور نے بتایا کہ تشدد و تصادم کے واقعہ کے بعد تحقیقات کا حکم جاری کر دیا گیا ہے۔
Published: undefined
بیلاری میں ہوئے تشدد معاملہ پر وزیر داخلہ پرمیشور نے کہا کہ ’’کل بیلاری میں جناردھن ریڈی کے ایک گروپ اور مقامی رکن اسمبلی نارا بھرت ریڈی کے دوسرے گروپ کے درمیان ایک پوسٹر لگانے سے متعلق مسئلہ پر تصادم ہو گیا، جو مہرشی والمیکی کی مورتی کے افتتاح سے جڑا تھا۔ کانگریس رکن اسمبلی بھرت ریڈی کے حامیوں نے بینر لگائے جبکہ جناردھن ریڈی کے حامیوں نے ان پوسٹر کو ہٹا دیا۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ پوسٹر کو ہٹائے جانے سے لوگ مشتعل ہو گئے اور ایک دوسرے پر پتھر پھینکنے لگے۔ تصادم میں ایک شخص کی موت ہو گئی۔ اس معاملے کی جانچ کا حکم دے دیا گیا ہے۔
Published: undefined
جی. پرمیشور کے مطابق ’’مجھے بتایا گیا ہے کہ اس معاملہ میں ہوئی ایف آئی آر میں 11 لوگوں کے نام درج کیے گئے ہیں، جبکہ کچھ لوگوں کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔‘‘ انھوں نے یہ بھی کہا کہ جب پوری رپورٹ آ جائے گی تو وہ میڈیا کے ساتھ درست جانکاری شیئر کریں گے۔
Published: undefined
دوسری طرف تصادم کے بعد پیدا حالات اور کارروائی کے بارے میں پولیس نے بتایا کہ شہر میں والمیکی کے مجسمہ کی رونمائی پروگرام سے قبل بینر لگانے کو لے کر ہوئے پُرتشدد تصادم کو لے کر آج جمعہ کو بی جے پی رکن اسمبلی جناردن ریڈی اور 10 دیگر کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ بی جے پی رکن اسمبلی جناردن ریڈی اور کانگریس رکن اسمبلی بھرت ریڈی کے حامیوں میں تصادم کے ایک دن بعد بیلاری میں حالات پرامن ہیں، لیکن وہاں سیکورٹی بڑھا دی گئی ہے۔
Published: undefined
بیلاری میں یہ تصادم 3 جنوری کو شہر میں ہونے والی والمیکی کے مجسمہ کی رونمائی تقریب سے عین قبل ہوا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ بھرت ریڈی کے حامی جناردن ریڈی کے گھر کے سامنے پوسٹر لگانے کی کوشش کر رہے تھے، جس کے بعد ان کے حامیوں نے مخالفت کی اور اس وجہ سے تلخ بحث ہو گئی۔ بحث نے جھگڑے کی شکل اختیار کی، اور پھر یہ مار پیٹ میں تبدیل ہو گئی۔ تصادم میں دونوں فریقین کے حامیوں نے مبینہ طور پر خوب پتھراؤ کیا۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ حالات کو قابو میں کرنے کے لیے موقع پر پہنچے پولیس اہلکاروں پر بھی پتھر پھینکے گئے۔ اس واقعہ میں کئی لوگ زخمی بھی ہوئے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined
تصویر: پریس ریلیز
تصویر: پریس ریلیز