قومی خبریں

بہرائچ: 200 گرفتاریوں کے بعد اقلیتی طبقہ کے لوگ نقل مکانی پر مجبور

گاؤں کے لوگوں کا کہنا ہے، ’’درگا وسرجن کے دوران ہندو اور مسلمانوں کے درمیان جھگڑا ہوا، جس کے بعد پولس نے صرف مسلمانوں کو گرفتار کرنا شروع کر دیا۔‘‘

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا بہرائچ کے کھیڑا گاؤں میں بڑے پیمانے پر مسلمانوں کی گرفتاریوں کے بعد کا منظر

اتر پردیش کے مختلف علاقوں میں اقلیتی طبقہ کے لوگوں کو ہراساں کرنے کا سلسلہ جاری ہے، جن مقامات پر ہراسانی کے بعد اقلیتی طبقہ کے لوگ نقل مکانی کرنے پر مجبور ہیں ان میں بہرائچ ضلع بھی شامل ہوگیا ہے۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق بہراچ کے کھیڑا گاؤں سے سینکڑوں کی تعداد میں مسلم نوجوانوں نے گرفتاری کے خوف سے گاؤں چھوڑ دیا ہے۔

بہرائچ کے کھیڑا گاؤں سے تقریباً 200 افراد کو پولس نے گرفتار کیا ہے اور ان پر غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث رہنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ ان گرفتاریوں کو یوپی پولس نے پی اے سی کے ساتھ مل کر انجام دیا ہے۔ پولس کا کہنا ہے کہ 20 اکتوبر کو ایک جھگڑا ہوا تھا، اسی معاملہ میں گرفتاریاں کی گئی ہیں۔

Published: 03 Nov 2018, 3:09 PM IST

میڈیا رپورٹوں کے مطابق کھیڑا گاؤں کے سینکڑوں مسلم طبقہ سے وابستہ لوگوں نے گاؤں چھوڑ دیا ہے۔

گاؤں والوں کا الزام ہے کہ پولس نے صرف ایک طبقہ کے لوگوں کو ہی گرفتار کیا ہے۔ واقعہ پر بات کرتے ہوئے گاؤں کے باشندوں نے کہا، ’’درگا وسرجن کے دوران ہندو اور مسلمانوں کے درمیان جھگڑا ہوا تھا، جس کے بعد پولس نے صرف مسلمانوں کو ہی گرفتار کیا۔ ہمیں معاملہ میں بری طرح پھنسایا جا رہا ہے۔ پولس کی جابرانہ کارروائی کے بعد گاؤں میں خوف کا ماحول ہے۔

Published: 03 Nov 2018, 3:09 PM IST

ادھر پولس کا کہنا ہے کہ 50 لوگوں کو محض پوچھ گچھ کے لئے گرفتار کیا گیا ہے۔ ایڈیشنل ایس پی روی چندرا سنگھ نے میڈیا سے بات کرت ہوئے کہا، ’’پولس نے کم از کم 50 افراد کو گرفتار کیا ہے۔ اس معاملہ میں جانچ کے لئے ایک ٹیم تشکیل دی گئی ہے، ہمارے پاس ثبوت کے طور پر کچھ ویڈیوز ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’ہم نے دونوں طبقات کے لوگوں سے بات کی ہے، بے قصوروں کو ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے، پولس پوچھ گچھ کر رہی ہے اور تفتیشی کمیٹی کی رپورٹ کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

Published: 03 Nov 2018, 3:09 PM IST

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: 03 Nov 2018, 3:09 PM IST