قومی خبریں

بابا صدیقی قتل معاملہ: شہزین صدیقی نے عدالت میں دائر کی مفصل درخواست، ممبئی کرائم برانچ پر لگائے سنگین الزامات

بابا صدیقی کی بیٹی شہزین ضیاء الدین صدیقی نے خصوصی عدالت میں ایک مفصل عرضی داخل کی ہے اور ممبئی کرائم برانچ کی تحقیقات پر سوال اٹھائے ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>بابا صدیقی کی فائل تصویر / آئی اے این ایس</p></div>

بابا صدیقی کی فائل تصویر / آئی اے این ایس

 
ians

نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے لیڈر اور سابق وزیر بابا صدیقی قتل معاملے میں ایک اہم قانونی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ بابا صدیقی کی بیٹی شہزین ضیاء الدین صدیقی نے خصوصی عدالت میں ایک مفصل عرضی داخل کی ہے اور ممبئی کرائم برانچ کی تحقیقات پر سوال اٹھائے ہیں۔ انہوں نے عدالت سے اپیل کی ہے کہ تحقیقاتی ایجنسی کو ہدایت دی جائے کہ وہ اس معاملے میں اہم ملزم انمول بشنوئی کی فوری تحویل لے کر پوچھ تاچھ کرے اور دیگر ملزمین کے ساتھ عدالت میں پیش کریں۔

Published: undefined

بابا صدیقی کی بیٹی شہزین صدیقی کے ذریعہ داخل عرضی میں کہا گیا ہے کہ ممبئی کرائم برانچ کے ذریعہ دائر چارج شیٹ کے مطابق انمول بشنوئی اس قتل معاملے کا مطلوب اہم ملزم ہے اور بشنوئی گینگ کے اہم اراکین میں شامل ہے۔ اس کے باوجود جانچ ایجنسی نے اس کی تحویل حاصل کرنے کے لیے اب تک کوئی موثر قدم نہیں اٹھایا ہے۔ شہزین صدیقی نے دعوی کیا ہے کہ ان کے اہل خانہ نے خود ہی کوشش کرکے یہ معلومات حاصل کی کہ انمول بشنوئی امریکہ کے آئیووا ریاست میں ’ڈپارٹمنٹ ہوم لینڈ سیکورٹی‘ (ڈی ایچ ایس) کی حراست میں ہے۔ یہ اطلاع تحقیقاتی افسران کو بھی مہیا کرائی گئی تھی، لیکن اس کے باوجود ایجنسی نے اسے ہندوستان لانے یا اس کی تحویل لینے کے لیے سنجیدگی نہیں دکھائی۔

Published: undefined

عرضی میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حادثے کے بعد تینوں شوٹروں کو جلد گرفتار کر لیا گیا تھا اور تحقیقات کے دوران کل 27 ملزمین کو گرفتار کیا گیا۔ حالانکہ اہل خانہ کا ماننا ہے کہ تحقیقات قتل کے اصل مقصد اور سازش کے اصل وجوہات تک نہیں پہنچی ہے۔ شہزین صدیقی کا الزام ہے کہ پولیس نے صرف ایک کمیٹی کے دائرے میں جانچ کی اور کئی اہم پہلوؤں کو نظر انداز کر دیا۔

Published: undefined

شہزین صدیقی نے عرضی میں کہا کہ ان کے بھائی ذیشان صدیقی نے اپنے بیان میں کچھ ایسے لوگوں کے نام بتائے تھے، جن سے پوچھ تاچھ کی جانی چاہئے تھی۔ لیکن ممبئی کرائم برانچ نے نہ تو ان لوگوں سے پوچھ تاچھ کی اور نہ ہی ان کے بیانات کی بنیاد پر آگے کی تحقیقات کی۔ اسی وجہ سے اہل خانہ کو تحقیقات کی غیر جانبداری اور سنجیدگی پر شک و شبہ ہوا۔

Published: undefined

عرضی کے مطابق اہل خانہ نے آئی ٹی آئی قانون کے تحت انمول بشنوئی کے حوالے سے اطلاعات مانگی تھیں۔ تحقیقاتی افسران نے یہ کہتے ہوئے اطلاع دینے سے انکار کر دیا کہ یہ خفیہ ہے۔ اس کے بعد اہل خانہ نے ڈی سی پی (کرائم) کے پاس اپیل بھی دائر کی، لیکن وہ اطلاع بھی فراہم نہیں کرائی گئی۔ شہزین کا کہنا ہے کہ ممبئی کرائم برانچ نے یہ واضح نہیں کیا ہے کہ انمول بشنوئی کو ہندوستان لانے یا اس کی تحویل لینے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے۔

Published: undefined

عرضی میں کہا گیا ہے کہ بعد میں امریکی حکومت نے انمول بشنوئی کو ہندوستان بھیج دیا۔ اس کے بعد وہ قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کی حراست میں رہا اور این آئی اے کی جانچ پوری ہونے کے بعد عدالتی حراست میں بھیج دیا گیا۔ شہزین صدیقی کا کہنا ہے کہ یہ مناسب وقت تھا جب ممبئی کرائم برانچ کو انمول بشنوئی کی تحویل لے کر بابا صدیقی قتل معاملے کی پوچھ تاچھ کرنی چاہئے تھی، لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔

Published: undefined

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined