
سوشل میڈیا
ایودھیا کے بدنام زمانہ اجتماعی عصمت دری معاملے میں عدالت کا حتمی فیصلہ سامنے آ گیا ہے۔ خصوصی پوکسو عدالت نے سماجوادی پارٹی کے رہنما معید خان کو باعزت بری کر دیا ہے، جبکہ ان کے نوکر راجو کو 20 سال قید اور 50 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی ہے۔ یہ فیصلہ اس معاملے میں ڈی این اے شواہد اور گواہوں کے بیانات کی بنیاد پر سنایا گیا۔
یہ معاملہ 29 جولائی 2024 کو پورقلندر پولیس اسٹیشن میں درج کیا گیا تھا، جس میں 12 سالہ نابالغ لڑکی کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کا الزام لگایا گیا تھا۔ پولیس نے اگلے ہی دن معید خان اور ان کے نوکر راجو کو گرفتار کر لیا تھا۔ الزام تھا کہ جرم دو ماہ قبل انجام دیا گیا اور اس کی ویڈیو بھی بنائی گئی۔ بعد ازاں متاثرہ لڑکی کا لکھنؤ کے کوئن میری اسپتال میں اسقاط حمل کرایا گیا۔
Published: undefined
تحقیقات کے دوران معید خان اور راجو دونوں کے ڈی این اے ٹیسٹ کرائے گئے۔ رپورٹ کے مطابق راجو کے نمونے کا میچ متاثرہ کے طبی نمونے سے ہو گیا، جبکہ معید خان کا ڈی این اے ٹیسٹ منفی آیا۔ عدالت نے اسی بنیاد پر معید خان کو الزامات سے بری کر دیا اور راجو کو مجرم قرار دیا۔
عدالتی کارروائی کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ مبینہ جرم معید خان کی بیکری میں نہیں بلکہ اس سے کافی دور ایک مقام پر پیش آیا تھا۔ استغاثہ کی جانب سے پیش کیے گئے 13 گواہوں کے بیانات بھی عدالت میں معید خان کے خلاف الزامات ثابت نہ کر سکے۔ ویڈیو ریکارڈنگ کے دعوے کے سلسلے میں جس موبائل فون کی بات کی گئی تھی، اس کی فرانزک جانچ سے بھی اس الزام کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
Published: undefined
اس معاملے کے منظر عام پر آنے کے بعد اتر پردیش حکومت نے سخت کارروائی کرتے ہوئے معید خان کی بیکری اور ایک کثیر منزلہ شاپنگ کمپلیکس کو بلڈوزر کے ذریعے مسمار کر دیا تھا۔ اس کارروائی نے ریاست بھر میں سیاسی ہلچل پیدا کر دی تھی اور حکومت پر قبل از وقت سزا دینے کے الزامات لگے تھے۔
سماجوادی پارٹی کے قومی ترجمان فخر الحسن چاند نے فیصلے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ایک بے قصور شخص کو سیاسی سازش کے تحت پھنسایا گیا تھا، جسے اب عدالت نے بری کر دیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جو نقصان معید خان کی ساکھ اور املاک کو پہنچا، اس کی ذمہ داری کون لے گا۔
یہ معاملہ اس بحث کو پھر سے زندہ کرتا ہے کہ کسی بھی الزام میں حتمی عدالتی فیصلے سے پہلے انتظامی کارروائی، خصوصاً بلڈوزر جیسے اقدامات، کس حد تک انصاف کے اصولوں کے مطابق ہیں۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined