قومی خبریں

’ناتھورام گوڈسے سے بہتر تھے اورنگ زیب‘، کیا اب سوامی پرساد موریہ کے بیان پر بھی شروع ہوگا تنازعہ؟

سوامی پرساد موریہ نے بی جے پی پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی لیڈران ملک میں نفرت کا بیج بو رہے ہیں، اسی کا نتیجہ ہے کہ یکے بعد دیگرے تشدد کے واقعات پیش آ رہے ہیں۔

سوامی پرساد موریہ، تصویر آئی اے این ایس
سوامی پرساد موریہ، تصویر آئی اے این ایس 

اورنگ زیب کی تعریف پر مبنی ابو عاصم اعظمی کے بیان نے گزشتہ کئی دنوں سے ہنگامہ برپا کیا ہوا ہے۔ حالت یہ ہو گئی ہے کہ سماجوادی پارٹی لیڈر ابو اعظمی کے بیان سے پیدا حالات کو دیکھتے ہوئے مہاراشٹر میں اورنگ زیب کی قبر پر سیکورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ اس درمیان بی جے پی حکومت میں کابینہ وزیر رہے سوامی پرساد موریہ نے ابو عاصم اعظمی کے بیان کی حمایت کرتے ہوئے خود ایسا بیان دے دیا ہے جس پر تنازعہ بڑھنے کے اندیشے پیدا ہو گئے ہیں۔ انھوں نے بی جے پی پر حملہ آور رخ اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ناتھورام گوڈسے سے بہتر تھے اورنگ زیب‘‘۔

Published: undefined

’اپنی جنتا پارٹی‘ کے سربراہ سوامی پرساد موریہ نے بی جے پی پر ملک میں نفرت کا بیج بونے کا الزام عائد کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’بی جے پی لیڈران ملک میں نفرت کا بیج بو رہے ہیں۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ یکے بعد دیگرے تشدد کے واقعات پیش آ رہے ہیں۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ اورنگ زیب بہت ہی تشدد کرتے تھے اور ان کو سب سے خراب بادشاہ مانا جا رہا ہے، میں کہنا چاہتا ہوں کہ ہو سکتا ہے وہ خراب رہے ہوں، لیکن وہ ناتھورام گوڈسے سے بہتر تھے۔‘‘ اپنے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’ناتھورام گوڈسے نے بابائے قوم مہاتما گاندھی کا قتل کر دیا تھا۔ اس لیے ہم سمجھتے ہیں کہ لوگ دوسروں پر انگلی اٹھاتے ہیں تو پہلے ان کو اپنے دامن میں جھانک کر دیکھنا چاہیے۔ اس کے بعد ہی دوسروں پر انگلی اٹھانے کی کوشش کرنی چاہیے۔‘‘

Published: undefined

قابل ذکر ہے کہ سماجوادی پارٹی کی مہاراشٹر یونٹ کے صدر ابو عاصم اعظمی نے گزشتہ دنوں میڈیا کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ اورنگ زیب کی حکومت میں ہندوستان کی سرحد افغانستان اور برما (میانمار) تک پہنچ گئی تھی۔ انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اورنگ زیب ایک ظالم حکمراں نہیں تھا، اور اس نے کئی مندر بنوائے۔ اورنگ زیب اور مراٹھا راجہ چھترپتی سنبھاجی مہاراج کے درمیان جنگ کے بارے میں پوچھے جانے پر انھوں نے بتایا کہ یہ مذہبی نہیں بلکہ سیاسی جنگ تھی۔

Published: undefined

بہرحال، مہاراشٹر میں اورنگ زیب کو لے کر تنازعہ عروج پر ہے۔ ہر چھوٹا بڑا لیڈر اورنگ زیب معاملہ پر اپنا رد عمل ظاہر کرتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ خصوصاً ہندوتوا تنظیموں سے جڑے لیڈران تو اورنگ زیب کی قبر کو نیست و نابود کرنے پر آمادہ ہیں۔ وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) نے اورنگ زیب کی قبر کو ختم کرنے کا اعلان تک کر دیا ہے۔ وی ایچ پی کے قومی ترجمان ونود بنسل نے اعلان کیا ہے کہ 17 مارچ کو چھترپتی شیواجی مہاراج کے یومِ پیدائش پر اورنگ زیب کی قبر کا خاتمہ ہوگا۔ اس طرح کی کوششوں کو دیکھتے ہوئے اورنگ زیب کی قبر پر ریاستی حکومت نے سیکورٹی انتہائی سخت کر دی ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined