
کھڑگے، پرینکا اور راہل (بائیں سے دائیں) انتخابی تشہیر کے دوران
تصویر @INCIndia
کانگریس کے سرکردہ لیڈران ملکارجن کھڑگے، راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی آج دن بھر انتخابی تشہیر میں مصروف نظر آئے۔ کانگریس صدر کھڑگے نے جہاں آسام کے مختلف علاقوں میں انتخابی اجلاس سے خطاب کیا، وہیں راہل-پرینکا نے کیرلم کے کچھ اہم علاقوں میں الگ الگ انتخابی تشہیر کی ذمہ داری سنبھالی۔ تینوں ہی لیڈران نے ریاستی حکومتوں کو تو نشانے پر لیا ہی، وزیر اعظم نریندر مودی کو بھی ہدف تنقید بنایا۔
Published: undefined
ملکارجن کھڑگے نے آسام کے نیلم بازار میں اپنی تقریر کے دوران کہا کہ ’’آسام کے وزیر اعلیٰ لوگوں میں فرقہ واریت کا زہر روز بھر رہے ہیں۔ ایک طرف حکومت میں بدعنوانی عروج پر ہے، دوسری طرف وزیر اعظم، وزیر داخلہ اور یہاں کے وزیر اعلیٰ عوام کو بتاتے ہیں کہ آسام میں سب کچھ ٹھیک ہے۔ لیکن یہ سچ نہیں ہے۔‘‘ انھوں نے برسراقتدار طبقہ پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’نریندر مودی اور ہیمنت بسوا سرما کہیں بھی جاتے ہیں تو بس کانگریس کو برا بھلا کہتے ہیں۔ لیکن کانگریس نے ملک کو بنایا، ہزاروں ترقیاتی کام کیے، ملک کی بنیاد تیار کی۔ بی جے پی کے زمانے میں بس ایک کام ہوا... آسام کو پارٹی کا اے ٹی ایم بنا دیا گیا، جس سے بس وصولی کی جاتی ہے۔‘‘
Published: undefined
کھڑگے نے وزیر اعظم مودی اور وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما پر جھوٹ بولنے کا سنگین الزام بھی عائد کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’ہیمنت بسوا سرما 100 جھوٹ بولنے والے نریندر مودی کا چیلا ہے۔ مودی نے عوام سے ڈھیر سارے وعدے کیے تھے، لیکن کہاں ہیں 2 کروڑ ملازمتیں؟ کہاں ہے نوٹ بندی سے فائدہ؟ کہاں ہے کسانوں کی دوگنی آمدنی؟ کہاں ہیں لوگوں کے اکاؤنٹ میں 15 لاکھ روپے؟‘‘ وہ واضح لفظوں میں کہتے ہیں کہ ’’آج آسام میں صرف لوٹ کا کھیل چل رہا ہے، جس میں بی جے پی والے اپنے دوستوں کو آسام کی جائیداد بانٹ رہے ہیں۔‘‘
Published: undefined
لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی 6 اپریل کی شام کیرالہ کے پلکڑ میں انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے دکھائی دیے۔ انھوں نے وزیر اعظم مودی اور بایاں محاذ (ایل ڈی ایف) حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انھوں نے کہا کہ ’’پی ایم مودی خود کو صرف ہندوستان کا وزیر اعظم نہیں بلکہ ملک کا بادشاہ سمجھتے ہیں۔‘‘ راہل گاندھی کے مطابق مودی نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ بایولوجیکل نہیں ہیں اور براہ راست خدا سے بات کرتے ہیں، جو ان کی ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔
Published: undefined
راہل گاندھی نے کیرالہ کے وزیر اعلیٰ پینارائی وجین پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’’وہ بھی خود کو ریاست کا بادشاہ سمجھتے ہیں، جہاں اختلاف کرنے والوں کو دھمکایا جاتا ہے، ان پر حملے کیے جاتے ہیں یا انہیں مارا پیٹا جاتا ہے۔‘‘ انہوں نے ایل ڈی ایف حکومت کے اتحادیوں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے منی پور کو تشدد کی آگ میں جھونک دیا، چھتیس گڑھ میں کیرالہ کی خواتین پر حملے کیے اور ملک بھر میں نفرت پھیلائی۔
Published: undefined
وائناڈ سے رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی آج پیراوور، نیلامبور، ممپاڈ اور تھیرووَمباڈی وغیرہ میں انتخابی تشہیر کرتی ہوئی دکھائی دیں۔ تھیرووَمباڈی میں انھوں نے لوگوں کی بھیڑ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’وزیر اعظم مودی اپنا نام ایپسٹین فائلز میں آنے اور اپنے قریبی ساتھی گوتم اڈانی کے امریکہ میں ممکنہ قانونی کارروائی کے خدشہ سے اس قدر خوفزدہ ہیں کہ انہوں نے امریکہ کے ساتھ ایسا تجارتی معاہدہ کیا ہے جو ملک کے محنتی کسانوں کے مفادات کے خلاف ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’اس معاہدے کے تحت ہندوستانی کسانوں کو اب امریکہ کے بڑے اور مشینی کھیتوں سے مقابلہ کرنا پڑے گا۔ وزیر اعظم نے ایک ایسا معاہدہ کیا ہے جس کے تحت ہندوستان امریکہ سے تقریباً 9 لاکھ کروڑ روپے کی مصنوعات خریدے گا۔
Published: undefined
پرینکا گاندھی نے نیلامبور میں انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی اور بایاں محاذ (ایل ڈی ایف) حکومتوں میں ایک بات مشترک ہے کہ دونوں بڑی کارپوریٹ کمپنیوں کے مفادات کے لیے کام کرتی ہیں۔ وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ ’’میں برسوں سے مدر ٹریسا سے وابستہ مشنری بہنوں کے ساتھ کام کرتی رہی ہوں، اور جب بھی ان سے ملاقات ہوتی ہے تو وہ سرکاری ایجنسیوں کی جانب سے ہراسانی کی شکایت کرتی ہیں۔ ان ہراسانیوں میں غیر معمولی اوقات میں چھاپے مارنا اور ذاتی مقامات میں داخل ہونا شامل ہے۔‘‘ انہوں نے آگے کہا کہ ’’یہ خواتین اپنی زندگیاں غریبوں، بیماروں اور لاوارث افراد کی خدمت کے لیے وقف کر چکی ہیں اور مشکل حالات میں بچوں سمیت ضرورت مند افراد کی دیکھ بھال کرتی ہیں۔ ان کی کاوشوں کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔‘‘ وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ ’’کئی اسلامی فلاحی ادارے بھی بہترین خدمات انجام دے رہے ہیں، لیکن انہیں بھی مختلف تنظیموں اور بی جے پی کی پالیسیوں کے تحت نشانہ بنایا جا رہا ہے۔‘‘
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined