قومی خبریں

آسام میں سیلاب کی تباہی جاری، 47 افراد جاں بحق، 10.6 لاکھ سے زائد متاثر؛ راحت اور بچاؤ کا کام جاری

آسام میں سیلاب سے 10.6 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں جبکہ 47 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ 25 اضلاع میں راحت اور بچاؤ کی کارروائیاں جاری ہیں اور ہزاروں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>

آئی اے این ایس

 

گوہاٹی: آسام میں سیلاب کی تباہ کاریوں کا سلسلہ جاری ہے اور ریاست کے مختلف علاقوں میں لاکھوں افراد اس قدرتی آفت سے متاثر ہوئے ہیں۔ ریاستی حکومت کی تازہ رپورٹ کے مطابق 29 اپریل سے 23 جولائی کے درمیان سیلاب کے باعث 47 افراد کی جان جا چکی ہے، جبکہ 10 لاکھ 63 ہزار 216 سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں۔ حکومت نے متاثرین تک راحتی سامان پہنچانے اور انہیں محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے لیے جنگی پیمانے پر کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔

وزیر اعلیٰ ہمنت بسوا سرما نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ ریاستی حکومت متاثرہ خاندانوں تک کھانا، پینے کا صاف پانی، ادویات اور دیگر ضروری اشیا کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب سے جان و مال کا بڑا نقصان ہوا ہے اور حکومت چوبیس گھنٹے متاثرین کی مدد کے لیے کام کر رہی ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ریاست کے 25 اضلاع میں واقع 77 ریونیو سرکل اور 2,023 دیہات سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔ متاثرہ افراد کی مدد کے لیے 162 راحتی کیمپ قائم کیے گئے ہیں، جہاں 41 ہزار 264 افراد پناہ لیے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ مختلف علاقوں میں 1,072 راحتی تقسیم مراکز بھی قائم کیے گئے ہیں، جہاں ضروری امدادی سامان فراہم کیا جا رہا ہے۔

سیلاب سے ہونے والی اموات میں سب سے زیادہ 21 افراد ضلع شیوساگر میں جاں بحق ہوئے ہیں، جبکہ چرائدیو میں 10، جورہاٹ میں 8، دھیمجی میں 3، کاربی آنگلونگ اور گولاگھاٹ میں 2، 2 اور سونیت پور میں ایک شخص کی موت واقع ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ اب بھی 8 افراد لاپتا ہیں، جن میں 6 شیوساگر، ایک دھیمجی اور ایک چرائدیو سے تعلق رکھتے ہیں۔

سیلاب نے رہائشی مکانات کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 401 مکانات مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں جبکہ 1,856 مکانات کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔ ریاستی حکومت نے اب تک 28 ہزار 912 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا ہے اور بچاؤ و راحت کی کارروائیاں مسلسل جاری ہیں۔

دریں اثنا، متاثرہ علاقوں میں قومی آفات سے نمٹنے والی فورس (این ڈی آر ایف)، فوج اور ضلعی انتظامیہ کی ٹیمیں امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔ کئی مقامات پر فوج کے ہیلی کاپٹر فضائی نگرانی کے ذریعے محصور افراد کی تلاش میں مصروف ہیں، جبکہ کشتیوں کے ذریعے متاثرین کو محفوظ مقامات تک پہنچایا جا رہا ہے۔

وزیر اعلیٰ ہمنت بسوا سرما نے اعلان کیا ہے کہ وہ جلد ہی اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس کی صدارت کریں گے، جس میں سیلاب کی موجودہ صورت حال اور راحت و بچاؤ کی کارروائیوں کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ ریاستی حکومت اس مشکل گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کے لیے پوری طرح متحرک ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔