قومی خبریں

نابالغ سے عصمت دری معاملہ میں قید آسارام کو ملی راحت بھری خبر، 20 دنوں کی پیرول عدالت سے منظور

عدالت نے حکم دیا کہ آسارام کو 50 ہزار روپے کے ذاتی مچلکے اور 25-25 ہزار روپے کے 2 اہل ضامن پیش کرنے کی شرط پر رہا کیا جائے گا۔ مقررہ مدت پوری ہونے کے بعد اسے دوبارہ جیل میں حاضر ہونا ہوگا۔

<div class="paragraphs"><p>آسارام، تصویر سوشل میڈیا</p></div>

آسارام، تصویر سوشل میڈیا

 

نابالغ سے عصمت دری کے معاملہ میں جودھپور جیل میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے 87 سالہ آسارام کو 13 سال بعد پہلی بار 20 دنوں کی پیرول مل گئی ہے۔ راجستھان ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس سنجیو پرکاش شرما اور جسٹس سنجیت پروہت کی بنچ نے یہ حکم جاری کرتے ہوئے کہا کہ پیرول دینے سے انکار کرنے کے لیے پیش کیے گئے خدشات کی ریکارڈ پر کوئی ٹھوس بنیاد موجود نہیں ہے۔

آسارام کی جانب سے ایڈووکیٹ کالورام بھاٹی اور یشپال سنگھ راج پروہت نے پیروی کی۔ سماعت کے دوران ریاستی حکومت نے عدالت کو بتایا کہ ضلع کلکٹر کی صدارت میں ہونے والی میٹنگ میں پیرول کی درخواست مسترد کرنے کی سفارش کی گئی تھی۔ پولیس نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ پیرول ملنے پر وہ فرار ہو سکتا ہے۔ حکومت نے یہ بھی کہا کہ اس کے خلاف راجستھان سے باہر بھی مجرمانہ مقدمات درج ہیں اور گجرات کی ایک عدالت بھی اسے قصوروار قرار دے چکی ہے۔ حکومت نے عدالت کے سامنے یہ دلیل بھی پیش کی کہ آسارام زیر علاج ہے اور طبی افسر نے پیرول پر رہائی کے لیے فٹنس سرٹیفکیٹ نہیں دیا ہے۔ اس کے علاوہ شکایت کنندہ کے خاندان کی سلامتی کو لے کر بھی سنگین خدشات ظاہر کیے گئے۔

سبھی دلائل سننے کے بعد ہائی کورٹ نے کہا کہ آسارام تقریباً 13 سال، ایک ماہ اور 24 دن سے جیل میں ہے۔ اس دوران اسے پہلے عبوری ضمانت بھی ملی تھی، لیکن ضمانت کا غلط استعمال کرنے، فرار ہونے، معاشرے یا گواہوں کو متاثر کرنے یا کسی کو نقصان پہنچانے جیسا کوئی واقعہ سامنے نہیں آیا۔ ایسے میں صرف خدشات کی بنیاد پر پیرول سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ بنچ نے حکومت کی جانب سے ظاہر کیے گئے تمام خدشات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے آسارام کو 20 دن کی پہلی پیرول منظور کر لی۔ عدالت نے حکم دیا کہ اسے 50 ہزار روپے کے ذاتی مچلکے اور 25-25 ہزار روپے کے 2 اہل ضامن پیش کرنے کی شرط پر رہا کیا جائے گا۔ مقررہ مدت پوری ہونے کے بعد اسے ضابطے کے مطابق دوبارہ جیل میں حاضر ہونا ہوگا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔