
راجیہ سبھا کی فائل تصویر، آئی اے این ایس
پیپر لیک کو روکنے سے متعلق ’پبلک اگزامنیشن (غیر منصفانہ ذرائع کی روک تھام) ترمیمی بل، 2026‘ بدھ کے روز لوک سبھا میں ہنگامے کے درمیان منظور کر لیا گیا۔ حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی کے سخت تیور کے بعد اینٹی پیپر لیک بل صوتی ووٹ سے منظور ہو گیا۔ اب باری راجیہ سبھا کی ہے۔ مودی حکومت لوک سبھا کے بعد جمعرات کو دوپہر 2 بجے اینٹی پیپر لیک بل راجیہ سبھا میں پیش کرے گی۔ راجیہ سبھا میں بل پر بحث ہوگی اور اس کے بعد حکومت اسے منظور کرانے کی کوشش کرے گی۔
راہل گاندھی کی قیادت میں شروع ہوئی ’چھاتروں کی گونج‘ مہم اور جنتر منتر سے شروع ہونے والی طلبا تحریک کے بعد مودی حکومت پیپر لیک کو روکنے کے لیے سخت قانون لے کر آئی ہے۔ اب سوال یہی ہے کہ کیا لوک سبھا کی طرح راجیہ سبھا میں بھی مودی حکومت آسانی سے بل منظور کرا لے گی یا سیاسی رکاوٹیں سامنے آئیں گی۔ ایسے میں راجیہ سبھا میں حکمراں اتحاد اور اپوزیشن کے ’نمبر گیم‘ یعنی عددی صورتحال کو سمجھنا ضروری ہے۔
دراصل پیپر لیک معاملہ پر طلبا کی تحریک اور شدید احتجاج کے بعد مودی حکومت نے سخت قانون بنانے کا فیصلہ کیا۔ مرکزی وزیر جتیندر سنگھ نے منگل کے روز پیپر لیک اور امتحانات میں دھاندلی سے نمٹنے کے لیے ’پبلک اگزامنیشن (غیر منصفانہ ذرائع کی روک تھام) ترمیمی بل، 2026‘ لوک سبھا میں پیش کیا۔ منگل اور بدھ کو اینٹی پیپر لیک بل پر زوردار بحث ہوئی۔ حکمراں اتحاد اور اپوزیشن کے درمیان خوب نوک جھونک بھی دیکھنے کو ملی۔ اپوزیشن نے پیپر لیک معاملے پر مودی حکومت اور بی جے پی کو شدید نشانہ بنایا۔
لوک سبھا سے ’پبلک اگزامنیشن (غیر منصفانہ ذرائع کی روک تھام) ترمیمی بل، 2026‘ یعنی اینٹی پیپر لیک بل صوتی ووٹ سے منظور ہونے کے بعد مودی حکومت اسے آج دوپہر راجیہ سبھا میں پیش کرے گی۔ امید کی جا رہی ہے کہ حکومت لوک سبھا کی طرح راجیہ سبھا میں بھی اس ترمیمی بل کو آسانی سے منظور کرا لے گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بی جے پی کی قیادت والے این ڈی اے کے پاس راجیہ سبھا میں اکثریت حاصل ہے۔
اپوزیشن پارٹیاں راجیہ سبھا میں ترمیمی بل پر بحث کے دوران حکومت کو سیاسی طور پر ضرور کٹہرے میں کھڑا کرتی نظر آ سکتی ہیں، لیکن وہ بل کی مخالفت میں زیادہ سوالات اٹھاتی ہوئی نظر نہیں آئیں گی۔ لوک سبھا میں بھی دیکھا گیا کہ اپوزیشن نے بل پر گفتگو کے دوران نئے قانون کے بجائے دہلی میں پولیس کی کارروائی پر زیادہ توجہ دی۔ اس کے بعد وزیر جتیندر سنگھ نے بحث کا جواب دیا اور بل صوتی ووٹ سے منظور کر لیا گیا۔
قابل ذکر ہے کہ راجیہ سبھا میں نشستوں کی تعداد 245 ہے، لیکن 3 نشستیں خالی ہیں۔ اس لحاظ سے اس وقت ایوان میں 242 اراکین موجود ہیں۔ اس صورت میں ایک عام بل منظور کرانے کے لیے 122 ارکان کی حمایت درکار ہوتی ہے۔ بی جے پی کی قیادت والے این ڈی اے کے پاس اس وقت راجیہ سبھا میں 152 اراکین کی حمایت حاصل ہے۔ اس لحاظ سے حکومت کے پاس اینٹی پیپر لیک بل منظور کرانے کے لیے مطلوبہ اکثریت سے زیادہ اراکین موجود ہیں، جس کی بنیاد پر وہ یہ بل آسانی سے منظور کرا لے گی۔
کانگریس کی قیادت والے انڈیا بلاک کے پاس راجیہ سبھا میں 63 اراکین ہیں، جبکہ دیگر اپوزیشن پارٹیوں کے پاس 29 اراکین ہیں۔ اس طرح اگر پوری اپوزیشن متحد بھی ہو جائے تو بھی مودی حکومت اینٹی پیپر لیک بل آسانی سے منظور کرا لے گی۔ تاہم آئینی ترمیم کے لیے راجیہ سبھا میں 162 اراکین کی حمایت درکار ہوتی ہے، اور مودی حکومت اس تعداد سے فی الحال دور ہے۔
توجہ طلب ہے کہ ’اینٹی پیپر لیک بل‘ میں پیپر لیک روکنے کے لیے کئی سخت دفعات شامل کی گئی ہیں۔ اس بل کے تحت پیپر لیک کے معاملات کی جانچ اور سماعت تیز ہوگی اور قصورواروں کو پہلے سے زیادہ سخت سزا دی جائے گی۔ مودی حکومت نے اس نئے بل میں سخت قواعد شامل کیے ہیں، جن کے تحت پیپر لیک کرنے یا غیر منصفانہ ذرائع استعمال کرنے والے افراد کو کم از کم 5 سال اور زیادہ سے زیادہ 10 سال قید کے ساتھ 50 لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا دی جا سکے گی۔
مرکزی حکومت نے اس نئے بل میں منظم جرائم کے لیے کم از کم 7 سال قید اور 10 کروڑ روپے تک جرمانے کی تجویز بھی دی ہے، جبکہ پیپر لیک سے متعلق ہر معاملے کی جانچ 2 ماہ کے اندر مکمل کرنا لازمی ہوگا۔ اسی طرح پیپر لیک کے مقدمات کو غیر ضروری طور پر طول پکڑنے سے روکنے کے لیے ’اسپیشل فاسٹ ٹریک کورٹ‘ قائم کی جائیں گی، جہاں روزانہ سماعت ہوگی۔ پیپر لیک کی جانچ ریاستی پولیس یا اسپیشل ٹاسک فورس (ایس ٹی ایف) کو زیادہ سے زیادہ 60 دن کے اندر مکمل کرنا ہوگی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔