
امریکی صدر ٹرمپ کو جھٹکا
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور داخلی سطح پر تنقید کا سامنا کر رہے امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو مزید ایک بڑا جھٹکا لگا ہے۔ کابینہ کی رکن لوری شاویز ڈی ریمر نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ اس تازہ واقعہ کو امریکہ کی سیاست میں بڑے بدلاؤ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے شاویز کے استعفیٰ کی تصدیق کر دی گئی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ لوری شاویز پر اپنے عہدے کے غلط استعمال سے متعلق کئی الزامات لگے تھے۔ ان میں اپنے جونیئر کے ساتھ تعلقات قائم کرنے اور ڈیوٹی کے دوران شراب پینے جیسے الزامات شامل ہیں۔ حالانکہ ابتدائی طور پر ان الزامات کو خارج کر دیا گیا تھا لیکن وقت کے ساتھ معاملے نے طول پکڑ لیا۔
Published: undefined
امریکی وزارت دفاع ’وائٹ ہاؤس‘ کے ڈائرکٹر مواصلات اسٹیو شیونگ نے بتایا کہ لوری شاویز ڈی ریمر اب انتظامیہ کو خیر باد کہہ کر نجی سیکٹر میں نئی ذمہ داری سنبھالیں گی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ شاویز کے عہدہ چھوڑنے کے بعد ڈپٹی لیبر سکریٹری کیتھ سونڈر لنک کو کارگزار لیبر سکریٹری مقررکیا گیا ہے جو فی الحال اس عہدے کی ذمہ داری سنبھالیں گے۔
Published: undefined
قابل ذکر ہے کہ شاویز معاملے میں جانچ آگے بڑھنے کے ساتھ ہی محکمہ لیبر میں کئی افسران پر کارروائی کی گئی ہے۔ اب تک کم سے کم 4 افسران کو عہدے سے دستبردار ہونا پڑا ہے۔ ان میں شاویز ڈی ریمر کے سابق چیف آف اسٹاف، ڈپٹی چیف آف اسٹاف اور ان کی سیکورٹی ٹیم کے ایک رکن بھی شامل ہیں جن کے ساتھ ان کے تعلقات کے الزام لگے تھے۔ اس دوران سینیٹر جان کینیڈی نے شاویز کے استعفیٰ پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مجھے لگتا ہے سکریٹری نے استعفیٰ دینے میں سمجھداری دکھائی ہے۔
Published: undefined
واضح رہے کہ تازہ واقعہ ٹرمپ کابینہ میں حال ہی میں تیسری بڑی تبدیلی ہے۔ اس سے پہلے بھی دو سینئر افسران کو عہدے سے ہٹایا جا چکا ہے۔ اب جبکہ شاویز نے استعفیٰ دے دیا ہے اور ان کے خلاف جانچ بھی کی جا رہی ہے، تو کئی دیگر افسران پر بھی کارروائی ممکن ہے۔ شاویز کے استعفیٰ کے بعد ایک گہما گہمی والی حالت پیدا ہو گئی ہے ٹرمپ انتظامیہ کے لیے وقتی طور پر کچھ مشکلیں کھڑی ہو چکی ہیں۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined