
تصویر/آئی اے این ایس
اتر پردیش کے شاملی میں پولیس نے پیر کو ہریانوی گلوکار انکت بالیان کے قتل کے معاملے میں 2 مشتبہ قاتلوں کو انکاؤنٹر میں مار گرایا۔ اس انکاؤنٹر میں 2 پولیس اہلکار شدید زخمی ہوئے ہیں، جنہیں اسپتال لے جایا گیا۔ پولیس افسران نے بتایا کہ مرنے سے قبل مشتبہ قاتلوں نے راہل کا نام لیا ہے۔ خبر رساں ایجنسی ’آئی اے این ایس‘ کے مطابق ملزمان کی شناخت سمت اور موہت کے طور پر ہوئی ہے۔ افسران نے بتایا کہ دونوں ہریانہ کے ضلع سونی پت کے رہنے والے تھے۔ شاملی کے ایس پی نریندر پرتاپ سنگھ نے تصدیق کی کہ انکت بالیان کا قتل کرنے والے 4 شوٹروں میں یہ دونوں بھی شامل تھے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ دونوں انتہائی مطلوب مجرم تھے۔
ایس پی نریندر پرتاپ سنگھ نے ملزمان کے انکاؤنٹر کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 26 اگست کو شاملی ضلع میں ایک بڑا واقعہ پیش آیا تھا۔ کوتوالی تھانے کے علاقے میں ایک جم کے قریب مشہور ہریانوی گلوکار انکت بالیان کو گولی مار کر قتل کر دیا گیا تھا۔ اس واقعے کے بعد ہم نے پورے ضلع میں ہائی الرٹ نافذ کر دیا تھا۔ ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ رات 12 بجے سے صبح تک ناکہ بندی اور چیکنگ مہم چلائی جا رہی تھی۔ اس مہم کے تحت پورے ضلع میں چیکنگ کی جا رہی تھی۔ اسی دوران رات تقریباً 3:30 بجے صدر کوتوالی علاقے کے صنعتی خطے میں باغپت رجسٹریشن نمبر والی گاڑی میں 2 نوجوان آئے۔ جب پولیس نے انہیں آواز دے کر روکنے کی کوشش کی تو انہوں نے فوراً پولیس کی گاڑی اور اہلکاروں پر فائرنگ کر دی۔ اس کے بعد وہ مڑ کر کوتوالی کی طرف فرار ہو گئے۔
ایس پی کے مطابق آگے بھی چیکنگ کی جا رہی تھی۔ اسی دوران پولیس ٹیم پر فائرنگ کی گئی، جس میں گاڑی کا شیشہ ٹوٹ گیا۔ اس دوران ملزمان شہر کی طرف فرار ہونے کی کوشش کرنے لگے۔ آگے جا کر انہوں نے پوزیشن سنبھال لی اور پولیس ٹیم پر فائرنگ شروع کر دی۔ اسی دوران اعلیٰ افسران بھی انکاؤنٹر کے مقام پر پہنچ چکے تھے۔ ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ ملزمان کی فائرنگ کے دوران 2 پولیس اہلکار شدید زخمی ہوئے ہیں، جنہیں علاج کے لیے اسپتال بھیجا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس کی جوابی کارروائی کے دوران دونوں ملزمان شدید زخمی ہو گئے تھے۔ انہیں حراست میں لے کر اسپتال پہنچایا گیا، جہاں ان کی موت ہو گئی۔
ایس پی نریندر پرتاپ سنگھ نے بتایا کہ دونوں شوٹروں کے پاس سے 2 9ایم ایم پستول، ایک پوائنٹ 32 کیلیبر پستول اور 26 کارتوس برآمد ہوئے ہیں۔ ایس پی نے بتایا کہ اسپتال لے جاتے وقت زخمی ملزمان سے ہماری ٹیم نے تفصیل سے پوچھ گچھ کی، تو انہوں نے بتایا کہ ہریانہ کے ایک بدنام زمانہ مجرم راہل نے انہیں بھیجا تھا۔ اس نے انہیں رقم دی، پستولوں کا انتظام کیا اور بتایا کہ 26 اگست کو باہر سے آنے والے کچھ لوگ ان سے ملیں گے۔ چاروں الگ الگ راستوں سے یہاں پہنچے اور انکت کو گولی مار دی، جس سے ان کی موقع پر ہی موت ہو گئی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔