قومی خبریں

آندھرا پردیش: وشاکھاپٹنم میں مندر میں بڑا حادثہ، دیوار گرنے سے 8 افراد کی موت، کئی زخمی

این ڈی آر ایف اور ایس ڈی آر ایف کی ٹیمیں راحت اور بچاؤ کام میں لگی ہوئی ہیں۔ مندر میں وراہ لکشمی نرسنگھ سوامی کے درشن کے لیے بھکتوں کی بھیڑ امڈی ہوئی تھی۔

<div class="paragraphs"><p>ویڈیو گریب</p></div>

ویڈیو گریب

 

آندھرا پردیش کے وشاکھا پٹنم میں دردناک حادثہ پیش آیا ہے۔ یہاں شری وراہ لکشمی نرسمہا سوامی مندر کی دیوار گرنے سے 8 لوگوں کی موت ہو گئی جبکہ کئی زخمی ہو گئے۔ ذرائع کے مطابق مندر میں چندنوتسو کا پروگرام چل رہا تھا۔ اسی دوران مندر کا 20 فٹ لمبا حصہ منہدم ہو گیا۔ حادثے میں زخمی ہوئے لوگوں کو فوری طور پرعلاج کے لیے اسپتال میں داخل کرایا گیا۔

Published: undefined

حادثہ کی اطلاع ملتے ہی این ڈی آر ایف اور ایس ڈی آر ایف کی ٹیمیں موقع پر پہنچیں اور راحت اور بچاؤ کام میں لگ گئیں۔ آندھرا پردیش کے وزیر داخلہ وانگل پُڈی انیتا بھی موقع پر موجود ہیں۔  انہوں نے کہا، ’’یہ ایک افسوسناک واقعہ ہے۔ حکومت نے راحت اور بچاؤ کام تیزی سے کرنے کی ہدایت دی ہے۔‘‘

Published: undefined

اس حادثے کے بارے میں ایس ڈی آر ایف کے ایک جوان نے بتایا کہ یہ واقعہ رات تقریباً 2:30 بجے پیش آیا۔ اس میں 8 لوگوں کی موت ہو گئی جبکہ 4 دیگر افراد زخمی ہوئے ہیں۔ بی جے پی ایم ایل سی مادھو نے بھی حادثے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اس واقعہ کی جانچ کرے گی اور متاثرین کو معاوضہ دے گی۔

Published: undefined

دراصل یہ مانا جاتا ہے کہ یہاں مندر میں وراہ لکشمی نرسنگھ سوامی اپنے بھکتوں کو درشن دیتے ہیں۔ ان کے درشن کے لیے بڑی تعداد میں بھکت سنگھ گیری پہنچے تھے۔  بھگوان کے حقیقی شکل میں درشن کے لیے منگل دوہپر سے ہی سنگیری میں لوگوں کی بھیڑ امڈ پڑی تھی۔ کیشکھنڈ شالہ کے قریب کلیانم میدان میں لگائی گئی مفت درشن کی قطاریں بھکتوں سے بھری ہوئی تھیں۔ یہ قطار آگے تک ترپورانتک سوامی مندر تک پھیلی ہوئی تھی۔ بھکت ایک دن پہلے ہی اس ارادے سے جمع ہوئے تھے کہ اگر وہ قطار میں جلدی پہنچ جائیں تو انہیں جلدی درشن مل جائیں گے۔ لیکن اس دوران ہوئے ایک ناخوشگوار حادثہ نے سبھی کی آنکھیں نم کردی۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined