
راہل گاندھی / ویڈیو گریب
’’طلبا پر بربریت کے ذمہ دار امت شاہ ہیں۔ یا تو انھوں نے اس حملے کا حکم دیا، ایسے میں وہ براہ راست گنہگار ہیں۔ یا پھر انھیں حملے کی کوئی جانکاری نہیں تھی، ایسے میں وہ ناقابل وزیر داخلہ ہیں۔‘‘ یہ بیان آج لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری کیا ہے۔ اس سے قبل انھوں نے پریس کانفرنس میں بھی امت شاہ کو مظاہرین طلبا پر ہوئی بربریت کے لیے قصوروار ٹھہرایا۔ انھوں نے پی ایم مودی سے امت شاہ کے استعفیٰ کا مطالبہ بھی کیا۔
راہل گاندھی نے پریس کانفرنس میں میڈیا اہلکاروں کے کچھ سوالوں کا جواب دیتے ہوئے امت شاہ کے ساتھ ساتھ وزیر اعظم نریندر مودی کو بھی ہدف تنقید بنایا۔ انھوں نے کہا کہ ’’ایک شبیہ بنائی گئی ہے... امت شاہ ملک کے ’ہیرو‘ ہیں... نریندر مودی ’بھگوان‘ ہیں۔ اس شبیہ کو بنائے رکھنے میں ہزاروں کروڑ روپے پھونکے جا رہے ہیں۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’میڈیا، دہلی پولیس، آر اے ایف... سبھی کو اس کام پر لگا دیا گیا ہے تاکہ شبیہ کا غبارہ نہ پھٹ جائے۔ لیکن یہ غبارہ پھٹ چکا ہے۔‘‘
ایک نامہ نگار نے جب کانگریس رکن پارلیمنٹ سے سوال کیا کہ بی جے پی لیڈران تو طلبا پر فائرنگ کا انکار کر رہے ہیں، تو انھوں نے کہا کہ ’’میں پریس کے سامنے ایک ایسے نوجوان کو لے کر آیا، جو پیلیٹ گن سے متاثر ہے، اس کے جسم میں چھرّے بھرے ہوئے ہیں۔ اس نوجوان کی آنکھ میں چھرے ہیں۔ ایمس کی میڈیکل رپورٹ میں پیلیٹ گن انجری کی بات لکھی ہوئی ہے۔ پیلیٹ گن سے متاثر ایک شخص نہیں ہے، بلکہ کئی ہیں۔ یعنی پورے ثبوت ہیں کہ پیلیٹ گن کا استعمال ہوا ہے، لیکن مودی حکومت ماننے کو تیار نہیں ہے، تو کیا اب میں وہ رائفل اٹھا کر لاؤں؟‘‘ ساتھ ہی وہ کہتے ہیں کہ ’’پیلیٹ گن ایک لیتھل ہتھیار ہے اور اگر اسے قریب سے استعمال کیا جائے تو یہ جان بھی لے سکتی ہے۔‘‘
پریس کانفرنس میں سوال و جواب کے سیشن کے دوران راہل گاندھی نے پیپر لیک و امتحان میں بے ضابطگی کے خلاف کھڑے ہونے والے طلبا کی تعریف بھی کی۔ انھوں نے کہا کہ ’’میں طلبا کا دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ان میں وہ ہمت ہے جو ان کے والدین میں نہیں تھی۔ مجھے ہر اس ہندوستانی طالب علم پر فخر ہے جس نے یہ قدم اٹھایا۔‘‘ انھوں نے یہ عزم بھی ظاہر کیا کہ طلبا کی آواز وہ ہمیشہ بلند کرتے رہیں گے اور ان کے مسائل کا حل نکالنے کے لیے وہ سڑک سے پارلیمنٹ تک جدوجہد کریں گے۔
اس دوران پارلیمنٹ میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی غیر موجودگی کو راہل گاندھی نے ان کی کم ہمتی قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’وزیر داخلہ میں پارلیمنٹ آنے کی ہمت نہیں ہے۔ ان میں اتنی جرأت نہیں کہ اس طرح آپ کے سامنے کھڑے ہو سکیں۔ وہ تو بھاگ جائیں گے۔‘‘ وہ برملا کہتے ہیں کہ ’’ہمیں ان کے پارلیمنٹ آنے کی کوئی توقع نہیں، لیکن ہم جانتے ہیں کہ اس (طلبا پر بربریت) کے ذمہ دار وہی ہیں، اور ہم انہیں اس سے بچ نکلنے نہیں دیں گے۔‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔