قومی خبریں

جموں وکشمیر کے ڈوڈہ میں لرز اُٹھی زمین، 4.6 شدت کا زلزلہ، لوگوں میں خوف وہراس

ڈوڈہ میں زلزلے کے جھٹکے کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اس سے قبل یکم مارچ 2026 کو یہاں 4.2 شدت کا زلزلہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔ اگرچہ اس وقت کسی بڑے نقصان کی اطلاع نہیں ملی لیکن لوگوں میں خوف وہراس پھیل گیا۔

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر آئی اے این ایس</p></div>

فائل تصویر آئی اے این ایس

 

جموں و کشمیر کے ڈوڈا علاقے میں اتوار کی صبح جب لوگ گہری نیند میں تھے، زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔ ریختر اسکیل پر شدت 4.6 ریکارڈ کی گئی ہے۔ نیشنل سینٹر فار سیسمولوجی کے مطابق زلزلہ صبح 4 بج کر 32 منٹ پر آیا۔  یہ اطمینان کی بات رہی کہ ابھی تک جان و مال کے نقصان کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔

Published: undefined

زلزلے کے بعد مقامی انتظامیہ کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔ پولیس اور امدادی ٹیمیں صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ گھبرائیں نہیں بلکہ چوکس رہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال کی فوری اطلاع دیں۔ معلوم ہو کہ کچھ دن پہلے دہلی-این سی آر سمیت ملک کے مختلف حصوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تھے۔ ڈوڈہ میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کرنا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اس سے قبل یکم مارچ 2026 کو یہاں 4.2 شدت کا زلزلہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔ اگرچہ اس وقت کسی بڑے نقصان کی اطلاع نہیں ملی لیکن لوگوں میں خوف وہراس پھیل گیا۔

Published: undefined

غورطلب ہے کہ ہفتہ (11 اپریل) کو مہاراشٹر کے مراٹھواڑہ علاقے کے ہنگولی ضلع کے کچھ حصوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تھے۔ ریختر اسکیل پر زلزلے کی شدت 4.7 ریکارڈ کی گئی تھی۔ ناندیڑ اور پربھنی کے پڑوسی اضلاع میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تھے۔

Published: undefined

ہنگولی کے ضلع مجسٹریٹ راہل گپتا نے بتایا کہ زلزلے کے جھٹکے پانگرا شندے گاؤں کے کچھ حصوں میں محسوس کیے گئے۔ یہاں کچھ گھروں اور کمیونٹی سینٹرز کی دیواروں میں دراڑیں دیکھی گئیں۔ تاہم جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔ وہیں ناندیڑ کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے بتایا کہ زلزلے کی شدت 4.7 تھی۔ انہوں نے نیشنل سینٹر فار سیسمولوجی کی ایک ریڈنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہفتہ کی صبح 8:45 پر زلزلہ ریکارڈ کیا گیا۔ زلزلے کا مرکز ہنگولی ضلع کی تحصیل وسمت کے شیرلی گاؤں میں زمین سے تقریباً 10 کلومیٹر کی گہرائی میں تھا۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined