
منی پور میں کشیدہ حالات کے درمیان 21 اپریل کی علی الصبح آئے زلزلہ نے لوگوں میں ایک الگ ہی طرح کا خوف پیدا کر دیا ہے۔ نیشنل سنٹر فار سسمولوجی کے مطابق منگل کی صبح منی پور کے کامجونگ میں ریکٹر اسکیل پر 5.2 شدت کا زلزلہ آیا، جس کے بعد کچھ لوگ اپنے گھروں سے باہر نکل گئے۔ یہ زلزلہ زمین کی سطح سے 62 کلومیٹر کی گہرائی پر آیا، جس سے یہ ایک درمیانہ گہرائی والا زلزلہ ثابت ہوا۔ فی الحال کسی بڑے نقصان کی خبر سامنے نہیں آئی ہے۔
Published: undefined
نیشنل سنٹر فار سسمولوجی کے مطابق زلزلہ صبح تقریباً 6 بجے آیا، جس سے کامجونگ اور اس کے قریبی علاقوں میں رہنے والے لوگ دہشت میں آ گئے۔ جھٹکے محسوس ہوتے ہی لوگ اپنے گھروں سے باہر کی طرف نکلے اور ایک گہما گہمی شروع ہو گئی۔ زلزلہ کی شدت اتنی تیز تھی کہ اس کا اثر ناگالینڈ اور آسام میں بھی دیکھنے کو ملا۔ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ پیر کے روز اتراکھنڈ میں زلزلہ کے جھٹکے محسوس کیے گئے تھے، حالانکہ رات تقریباً 8.32 بجے آنے والے اس زلزلہ کی شدت 3.0 تھی۔ پیر کے روز جاپان میں 7.5 شدت کا زوردار زلزلہ بھی آیا تھا، جس کے بعد سنامی کا الرٹ جاری کر دیا گیا تھا۔ بعد ازاں ایواتے حلقہ کے کجی بندرگاہ پر 80 سنٹی میٹر اونچی سنامی کی لہریں بھی دیکھنے کو ملی تھیں۔
Published: undefined
بہرحال، منی پور میں بند، احتجاجی مظاہروں اور قتل کا سلسلہ جاری ہے، جس سے ریاست میں حالات کشیدہ ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پیر کے روز منی پور کے کئی پہاڑی اور وادی والے اضلاع میں معمولات زندگی درہم برہم رہا۔ الگ الت تنظیموں کے ذریعہ طلب کیے گئے بندوں کے ذریعہ اس ماہ کے شروع میں مشتبہ شورش پسندوں کے ذریعہ 2 بچوں اور کچھ شہریوں کے قتل کا احتجاج کیا گیا۔
Published: undefined
دراصل منی پور میں اپریل ماہ کے شروع میں ہی ایک بم حملہ میں 2 بچوں کی موت ہو گئی تھی۔ اس کے احتجاج میں شہری سماج کے گروپوں کے ذریعہ اعلان کردہ 5 روزہ مکمل بند نے ریاست کے وادی والے اضلاع میں معمولات زندگی کو بری طرح متاثر کیا۔ یہ بند، جو 19 اپریل کو شروع ہوا، ’میرا پائبی‘ نامی ایک عوامی گروپ کے ذریعہ بلایا گیا ہے جو مختلف شہری سماجی تنظیموں کے ذریعہ 2 معصوم بچوں کے قتل کے بعد تشکیل دیا گیا ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined