قومی خبریں

مغربی ایشیا کشیدگی: حکومت کا غیر معمولی قدم، نیوز چینلوں کی ٹی آر پی پر عارضی پابندی

حکومت کے مطابق کچھ نیوز چینل مغربی ایشیا کی کشیدگی کو بڑھا چڑھا کر اور بغیر مکمل تصدیق کے دکھا رہے ہیں۔ ایسی رپورٹنگ سے لوگوں میں ڈر اور غلط فہمی پیدا ہو سکتی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر اے آئی</p></div>

تصویر اے آئی

 

وزارت اطلاعات و نشریات نے براڈکاسٹ آڈینس ریسرچ کونسل (بی اے آر سی) کو ہدایت دی ہے کہ نیوز چینلوں کی ٹی آر پی (ٹیلی ویژن ریٹنگ پوائنٹس) رپورٹنگ آئندہ 4 ہفتوں تک یا اگلے حکم تک روک دی جائے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی اور اس سے منسلک خبروں کے پیش نظر لیا گیا ہے۔ وزارت نے اپنے بیان میں کہا کہ ’’اس سے قبل 6 مارچ کو بی اے آر سی کو اسی طرح کی ہدایت دی گئی تھی، جس میں 4 ہفتوں کے لیے ٹی آر پی روکنے کو کہا گیا تھا۔ چونکہ حالات اب بھی مکمل طور پر معمول پر نہیں آئے ہیں، اس لیے اسی حکم کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔‘‘

Published: undefined

حکومت کے مطابق کچھ نیوز چینل مغربی ایشیا کی کشیدگی کو بڑھا چڑھا کر اور بغیر مکمل تصدیق کے دکھا رہے ہیں۔ ایسی رپورٹنگ سے لوگوں میں ڈر اور غلط فہمی پیدا ہو سکتی ہے۔ خاص طور سے ان لوگوں پر اس کا زیادہ اثر پڑ سکتا ہے، جن کے اہل خانہ یا رشتہ دار اس علاقے میں رہتے ہیں۔ وزارت کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس طرح کی سنسنی خیز خبریں معاشرے میں غیر ضروری ڈر و خوف پھیلا سکتی ہیں، جسے روکنا ضروری ہے۔

Published: undefined

وزارت کا کہنا ہے کہ ’’مغربی ایشیا میں صورتحال اب بھی کشیدہ بنی ہوئی ہے اور مکمل طور پر معمول پر نہیں آئی ہے۔ ایسے میں میڈیا کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ وہ درست اور متوازن خبریں دکھائے۔ مفاد عامہ کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹی آر پی روکنے کے فیصلے کو برقرار رکھا گیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت اب اگلے 4 ہفتوں تک یا جب تک نیا حکم نہیں آتا، تب تک نیوز چینلوں کی ٹی آر پی عام نہیں کی جائے گی۔‘‘

Published: undefined

واضح رہے کہ ٹی آر پی کسی بھی ٹی وی چینل کے لیے کافی اہم ہوتی ہے، کیونکہ اسی کی بنیاد پر یہ طے ہوتا ہے کہ کون سا چینل کتنا دیکھا جا رہا ہے۔ اشتہار دینے والے بھی ٹی آر پی کو دیکھ کر ہی طے کرتے ہیں کہ انہیں کس چینل پر اشتہار دینا ہے اور کتنی قیمت ادا کرنی ہے۔ ایسے میں ٹی آر پی بند ہونے سے نیوز چینلوں کے کاروبار پر براہ راست اثر پڑ سکتا ہے۔ یہ پہلی بار نہیں ہے جب حکومت نے ایسا قدم اٹھایا ہے۔ 2020 میں بھی ٹی آر پی سے متعلق ایک بڑا تنازعہ سامنے آیا تھا، جس میں کچھ چینلوں پر ٹی آر پی میں بے ضابطگی کرنے کے الزام عائد ہوئے تھے۔ اس وقت ممبئی پولیس نے تحقیقات کی تھی اور اسی وجہ سے کچھ وقت کے لیے ٹی آر پی کو معطل کر دیا گیا تھا۔

Published: undefined

قابل ذکر ہے کہ براڈکاسٹ آڈینس ریسرچ کونسل (بی اے آر سی) 2010 میں بنائی گئی تھی۔ ہندوستان میں ٹی وی ناظرین کے اعداد و شمار کی پیمائش کرنے والا واحد با اختیار ادارہ ہے۔ اس کے ذریعہ جاری کردہ اعداد و شمار کی بنیاد پر ہی کروڑوں روپے کے اشتہاری سودے طے ہوتے ہیں۔ ایسے میں ٹی آر پی کو روکنے کا فیصلہ صرف ایڈیٹوریل پریکٹس کو ہی نہیں بلکہ ٹی وی نیوز انڈسٹری کے بزنس ڈائنامکس کو بھی متاثر کرتا ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined