قومی خبریں

سمندر میں امریکہ کا قہر، ایکواڈور کا پانچواں بحری جہاز کیا غرق، ایک سال میں 227 اموات نے پیدا کی تشویش

امریکی کمان کے مطابق یہ ایک تیرتا ہوا ایندھن کا مرکز تھا۔ اس جہاز کا استعمال سمندر میں زہریلی دواؤں کی اسمگلنگ کے منصوبوں میں مدد کے لیے کیا جا رہا تھا۔ یہ کارروائی مشرقی بحرالکاہل میں کی گئی۔

امریکی جھنڈا، تصویر آئی اے این ایس
امریکی جھنڈا، تصویر آئی اے این ایس 

امریکی جنوبی کمان نے پیر کے روز بحرالکاہل میں ایکواڈور کے ایک بہری جہاز کو غرق کر دیا ہے۔ امریکہ کا الزام ہے کہ یہ جہاز مجرمانہ تنظیم لاس چونیروس سے وابستہ تھا۔ امریکی کمان کے مطابق یہ ایک تیرتا ہوا ایندھن کا مرکز تھا۔ اس جہاز کا استعمال سمندر میں زہریلی دواؤں کی اسمگلنگ کے منصوبوں میں مدد کے لیے کیا جا رہا تھا۔ یہ کارروائی مشرقی بحرالکاہل میں کی گئی۔ جہاز میں موجود عملے کو پہلے اتار لیا گیا اور اب انہیں ایکواڈور کے افسران کے حوالے کر دیا جائے گا۔ امریکی جنوبی کمان نے کارروائی سے متعلق ایک ویڈیو بھی جاری کی ہے۔ اس ویڈیو میں امریکی فوجی اہلکار جہاز پر سوار ہوتے نظر آ رہے ہیں، اور اس کے بعد ایک ہیلی کاپٹر پرواز کرتا ہوا نظر آتا ہے، اور آخر کار ایک میزائل جہاز پر گرتا ہے جو جہاز کو تباہ کر سمندر میں غرق کر دیتا ہے۔

امریکی کمان نے کہا ہے کہ اس کی افواج مغربی نصف کرہ میں منشیات کی اسمگلنگ کو فروغ دینے والے لاجسٹک نیٹ ورک کو ختم کرنے کے لیے درست اور پیشہ ورانہ کارروائیاں جاری رکھے ہوئی ہیں۔ یہ 2 ہفتے سے بھی کم عرصے میں امریکی افواج کا پانچواں نشانہ ہے۔ اس سے قبل بحرالکاہل میں ماہی گیری کرنے والے جہاز ماریا کینڈیلاریا کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ ایکواڈور کی بحریہ نے اس جہاز کے 26 ارکان کو تلاش کر لیا۔ وہ اتوار کے روز بندرگاہی شہر مانٹا پہنچے۔ کونکویسٹا-2 کے 8 ماہی گیر بھی مل گئے ہیں۔ حالانکہ ان کے اہل خانہ ملک کی سرزمین پر ان سے متعلق اطلاعات کو لے کر مسلسل تشویش کا اظہار کرتے رہے۔ علاوہ ازیں او ایم-2 اور لاس ٹریس ہرمانوس جہازوں کے عملے کا کہنا ہے کہ امریکی کارروائی میں ان کے جہاز ڈبو دیے گئے۔

غور کرنے والی بات یہ ہے کہ ایک سال سے زیادہ عرصے کے دوران کیریبین اور بحرالکاہل کے علاقوں میں کشتیوں کے خلاف امریکی حکومت کی 68 کارروائیوں میں کم از کم 227 افراد مارے گئے ہیں۔ ان سمندری حملوں کی قانونی حیثیت پر ناقدین سوال اٹھا رہے ہیں۔ کم از کم ایک معاملے میں ایکواڈور کے افسران نے کہا تھا کہ حملے میں بچ جانے والے ایک شخص کا کسی مجرمانہ سرگرمی میں ملوث ہونے کا کوئی ثبوت نہیں تھا۔ اس دوران ایکواڈور کے افسران نے حال ہی میں غرق کیے گئے جہاز کے خلاف کی گئی کارروائی پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ جہاز کا نام بھی ظاہر نہیں کیا گیا ہے۔

اس درمیان ٹرمپ انتظامیہ اتحادی ممالک کے ساتھ ایسے معاہدے کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جس کے ذریعے اس مہم کو کئی لاطینی امریکی ممالک کی سرزمین تک بڑھایا جا سکے۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے اس ماہ پناما دورہ کے دوران کہا تھا کہ کولمبیا، گوئٹے مالا اور ہونڈوراس نے اپنی سرزمین پر مجرمانہ گروہوں کے خلاف مشترکہ امریکی فوجی کارروائی کی اجازت دینے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ حالانکہ گوئٹے مالا نے ایسے کسی معاہدے سے انکار کیا ہے۔ ایکواڈور نے مارچ میں امریکہ کے ساتھ اسی طرح کی مشترکہ کارروائیاں شروع کی تھیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔